علاقائی خبریںقومی

دھرنے اور گرفتاری کے بعد راہل گاندھی کے مرکز سے پانچ بڑے مطالبات

بھارت میں طلبہ کے احتجاج اور امتحانی پرچہ لیک معاملے پر سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ منگل کے روز راہل گاندھی، پریانکا گاندھی اور دیگر کانگریس رہنماؤں نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیا، جس کے بعد دہلی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں رات کے وقت تمام رہنماؤں کو رہا کر دیا گیا۔

حراست کے دوران راہل گاندھی نے حکومت کے سامنے پانچ اہم مطالبات پیش کیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان فوری طور پر استعفیٰ دیں۔ انہوں نے طلبہ پر پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور طلبہ پر درج تمام مقدمات واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو طلبہ کے خلاف کی گئی کارروائی پر عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر فوری بحث کرائی جائے اور ملک کے تعلیمی نظام میں جامع اصلاحات نافذ کی جائیں تاکہ مستقبل میں امتحانی بے ضابطگیوں اور پرچہ لیک جیسے واقعات کو روکا جا سکے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک کا تعلیمی نظام کیوں کمزور ہو رہا ہے، امتحانی پرچے بار بار کیوں لیک ہو رہے ہیں، تعلیم اتنی مہنگی کیوں ہو چکی ہے اور والدین کو بچوں کی تعلیم کے لیے شدید مالی مشکلات کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے راہل گاندھی پر الزام عائد کیا کہ وہ طلبہ کے جذبات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ادھر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ تنازع پارلیمنٹ میں بھی شدت اختیار کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جہاں اپوزیشن اس معاملے پر تفصیلی بحث کا مطالبہ کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button