نیویارک، سان ہوزے، لندن اور ڈبلن میں سونم وانگچک کے حق میں مظاہرے
امریکہ کے شہروں نیویارک اور سان ہوزے میں سماجی کارکنوں نے سونم وانگچک کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے مہاتما گاندھی کے مجسموں کے قریب جمع ہو کر پلے کارڈز اٹھائے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ طلبہ کے مستقبل سے کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ناقابل قبول ہے اور حکومت کو اس معاملے میں جوابدہی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ احتجاج کے دوران مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
اسی سلسلے میں لندن میں بھارتی ہائی کمیشن اور ڈبلن میں بھارتی سفارت خانے کے باہر بھی یکجہتی کے مظاہرے کیے گئے۔ احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کرنے والی تنظیم نے کہا کہ دنیا بھر میں ہونے والے یہ احتجاج اس بات کا پیغام ہیں کہ بھارت کے طلبہ کو انصاف، شفافیت اور باوقار تعلیمی نظام ملنا چاہیے۔
ادھر سونم وانگچک گزشتہ کئی ہفتوں سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ طبیعت بگڑنے کے بعد انہیں دہلی پولیس نے جنتر منتر سے اسپتال منتقل کیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ اس معاملے پر مختلف اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور طلبہ کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔



