زہران ممدانی کی انفلوئنسرز کے ذریعے نیویارک کے شہریوں تک رسائی کی حکمتِ عملی
نیویارک شہر کے میئر زہران ممدانی نے انٹرنیٹ کے ذریعے مقبولیت حاصل کی، اور اب ان کی انتظامیہ سینکڑوں مواد تخلیق کاروں اور اثرانداز شخصیات کے نیٹ ورک کو میئر کی پالیسیوں کے فروغ اور مثبت تاثر اجاگر کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سٹی ہال انتظامیہ گروپ چیٹس کے ذریعے معلومات اثرانداز شخصیات کو فراہم کرتی ہے اور انہیں میئر کے کاموں پر مواد تیار کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ معلومات خفیہ پیغام رسانی کی ایپلی کیشن سگنل کے ذریعے شیئر ہوتی ہیں، جس سے رابطے عوامی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ممدانی کے میئر بننے کے بعد سٹی ہال 1200 سے زائد مواد تخلیق کاروں کے ساتھ کام کر چکا ہے۔ ایک سگنل گروپ میں 250 سے زائد اثرانداز شخصیات شامل ہیں، جبکہ دیگر گروپس مخصوص طبقات کے لیے ہیں۔
اثرانداز شخصیات کو میئر کے ساتھ تقریبات میں مدعو کیا جاتا ہے۔ میئر کے دفتر کے مطابق انہیں معاوضہ نہیں دیا جاتا، تاہم میئر تک رسائی سے مزید پیروکار اور تجارتی اسپانسرشپ حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
نگران اداروں نے شفافیت، سرکاری فنڈنگ اور نجی رابطہ کاری پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سٹی ہال نے بجٹ، شریک شخصیات کی فہرست اور سرکاری اخراجات کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔
اگرچہ میئر کا دفتر براہ راست ادائیگی کی تردید کرتا ہے، بعض تخلیق کاروں کو سرکاری پروگراموں کے ذریعے معاوضہ ملا۔ نیویارک سٹی کیمپین فنانس بورڈ نے 2025 میں ووٹروں کی شرکت بڑھانے کے لیے 18 اثرانداز شخصیات کو 6 لاکھ 26 ہزار 365 ڈالر ادا کیے۔
حامیوں کے مطابق یہ شہریوں تک پہنچنے کا ذریعہ ہے، جبکہ ناقدین سرکاری بیانیوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ انیا شیفرین کے مطابق اثرانداز شخصیات مصنوعات کی تشہیر اور سرکاری اداروں سے معاہدے کر سکتی ہیں، جس سے صحافت اور اثرانداز مواد کے درمیان حدود مزید دھندلا جاتی ہیں۔



