حیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

سونم وانگچک کی عوام سے 20 جولائی کے مارچ میں شرکت کی اپیل

معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 20 جولائی کو ہونے والے پارلیمنٹ مارچ میں بھرپور شرکت کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کوئی مثبت جواب ملے بغیر بھوک ہڑتال ختم کرنا احتجاج کے مقصد کو کمزور کر دے گا۔

اپنے ویڈیو پیغام میں سونم وانگچک نے کہا کہ انہیں ہزاروں افراد کی جانب سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی درخواستیں موصول ہو رہی ہیں، جبکہ کئی سینئر سیاسی رہنما بھی ان سے ملاقات کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس مرحلے پر روزہ ختم کر دیتے ہیں تو حکومت کو یہ پیغام جائے گا کہ عوامی احتجاج کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک ہونے والے طبی معائنے اطمینان بخش ہیں اور ڈاکٹروں کے مطابق فوری طور پر ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں۔ ان کے مطابق جسم میں کمزوری ضرور ہے، لیکن دل اور دیگر اہم اعضا کی حالت بہتر ہے، اس لیے وہ مزید کئی دن تک بھوک ہڑتال جاری رکھ سکتے ہیں۔

سونم وانگچک نے طلبہ، نوجوانوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ 20 جولائی کو ہونے والے پارلیمنٹ مارچ میں بڑی تعداد میں شریک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف احتجاج نہیں بلکہ جمہوریت اور سیاسی شعور کا عملی سبق ہوگا، جہاں نوجوان اپنے آئینی حقوق اور عوامی آواز کی اہمیت کو قریب سے سمجھ سکیں گے۔

واضح رہے کہ جنتر منتر پر جاری احتجاج میں تعلیمی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات کو پارلیمنٹ تک پہنچانے کے لیے 20 جولائی کا مارچ فیصلہ کن ثابت ہوگا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button