تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

کنیپلی پمپ ہاؤس سے پانی اٹھانا ممکن نہیں ریونت ریڈی

تلنگانہ کے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے کنیپلی پمپ ہاؤس سے پانی اٹھانے کے اپوزیشن کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ایسا کرنا تکنیکی طور پر ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی ڈیم تحفظ ادارے کی سفارشات کے مطابق میڈی گڈہ، انارم اور سندیلا بیراجوں کے گیٹ بند کیے بغیر پمپ ہاؤس چلایا نہیں جا سکتا۔

ہفتہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پمپ چلانے کے لیے کم از کم پانچ ٹی ایم سی پانی ذخیرہ ہونا ضروری ہے۔ اگرچہ اس وقت دریا میں پانی بہہ رہا ہے، لیکن مطلوبہ ذخیرہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے پانی کو اوپر نہیں اٹھایا جا سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ کنیپلی پمپ ہاؤس سے اٹھایا جانے والا پانی انارم بیراج تک پہنچایا جاتا ہے، لیکن اگر میڈی گڈہ کے گیٹ بند نہ ہوں تو پانی دوبارہ واپس بہہ جائے گا، جس سے پورا عمل بے اثر ہو جائے گا۔

ریونت ریڈی نے الزام لگایا کہ بی آر ایس عوام کو گمراہ کر کے ریاستی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جل شکتی وزارت نے کالیشورم منصوبے کے بیراجوں کی بحالی کے لیے ایک تکنیکی کمیٹی تشکیل دی ہے، جو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ حکومت صرف متعلقہ ماہر اداروں کی منظوری کے بعد ہی مرمت کا کام شروع کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ایٹالہ راجندر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ اپوزیشن کے مؤقف کی حمایت کر کے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے چیلنج دیا کہ اگر اپوزیشن کو اپنے مؤقف پر یقین ہے تو وہ مرکزی ماہرین کے سامنے اپنا موقف پیش کرے۔

آندھرا پردیش کو پانی چھوڑنے کے الزام کو بھی وزیراعلیٰ نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پولاورم منصوبہ ابھی زیر تعمیر ہے، جبکہ پٹّی سیما منصوبے کے ذریعے پانی کی منتقلی کا عمل گزشتہ حکومت کے دور میں بھی جاری تھا۔

خشک سالی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت گزشتہ کئی ماہ سے کسانوں کو کم پانی استعمال کرنے والی فصلیں اختیار کرنے کا مشورہ دے رہی ہے تاکہ بارش کی کمی کے باعث ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button