بین الاقوامیعرب دنیا

بھارت اور نیوزی لینڈ کے تعلقات نئی بلندی پر، 2030 تک 35 ہزار کروڑ روپے کی تجارت کا ہدف

بھارت اور نیوزی لینڈ نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک لے جانے کا اعلان کرتے ہوئے 2030 تک باہمی تجارت کو 35 ہزار کروڑ روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت وزیراعظم نریندر مودی اور نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آئی۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں 18 اہم فیصلے کیے گئے، جن میں 10 معاہدوں پر دستخط بھی شامل ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد تجارت، دفاع، بحری سلامتی، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے بحرالکاہل خطے میں امن، استحکام، آزاد بحری آمدورفت اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بحری سلامتی کے مکالمے کے آغاز پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ معلومات کے تبادلے اور مشترکہ تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

نریندر مودی نے کہا کہ بھارت اور نیوزی لینڈ مشترکہ جمہوری اقدار رکھنے والے ایسے قدرتی شراکت دار ہیں جو ایک دوسرے کے لیے موزوں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا یہ تاریخی دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی رفتار دے گا اور عالمی امن کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

دوسری جانب وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات صرف آزاد تجارتی معاہدے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ انہیں وسیع اور مضبوط شراکت داری میں تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے میدان میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا۔

اس وقت بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً 2.25 ارب امریکی ڈالر ہے۔ دونوں ممالک کا ہدف ہے کہ 2030 تک اشیا اور خدمات کی تجارت کو دوگنا کیا جائے، جبکہ آئندہ 15 برسوں میں 20 ارب امریکی ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری سے اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہونے کی امید ہے۔

نیوزی لینڈ میں تین لاکھ سے زائد بھارتی نژاد افراد آباد ہیں، جو وہاں کی سیاست، معیشت اور کاروباری شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button