بین الاقوامیعرب دنیا

کربلا میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا پانچواں مرحلہ مکمل، تدفین آج مشہد میں ہوگی

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا پانچواں مرحلہ بدھ کے روز عراق کے مقدس شہر کربلا میں مکمل ہوگیا، جہاں لاکھوں سوگواروں نے ان کے جسدِ خاکی کو آخری خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اب ان کی میت کو ایران واپس لے جایا جائے گا، جہاں مشہد میں جمعرات کو سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کی جائے گی۔

چار روزہ تقریبات کے بعد پہلی بار ایران سے باہر ہونے والی ان رسومات میں امام حسینؑ اور حضرت عباسؑ کے روضوں پر خصوصی دعائیں کی گئیں۔ بعد ازاں تابوت کو دونوں مقدس مقامات کے گرد جلوس کی صورت میں لے جایا گیا، جہاں ہزاروں افراد نے گلاب کی پتیاں اور پھول نچھاور کیے۔

عراقی حکام کے مطابق کربلا میں تقریباً چالیس لاکھ جبکہ اس سے قبل نجف میں لگ بھگ اڑتیس لاکھ افراد نے جنازے اور جلوس میں شرکت کی۔ ایران اور عراق کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

اس سے پہلے تابوت کو نجف میں امام علیؑ کے روضے پر لے جایا گیا، جہاں نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ بعد ازاں جلوس اربعین روٹ کے ذریعے کربلا پہنچا، جہاں ہزاروں سوگوار راستوں پر جمع ہو کر جلوس کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراقی حکومت، عوام اور مذہبی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات صرف ہمسائیگی تک محدود نہیں بلکہ گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں پر قائم ہیں۔

گزشتہ تین روز کے دوران نوے ہزار سے زائد ایرانی زائرین آخری رسومات میں شرکت کے لیے عراق پہنچے۔

یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای گزشتہ فروری میں جنگ کے آغاز پر ہونے والے مشترکہ امریکی اور اسرائیلی حملے میں اپنے خاندان کے کئی افراد کے ساتھ ہلاک ہوگئے تھے۔ ان کی آخری آرام گاہ مشہد میں امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں ہوگی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button