ٹرمپ کا نیتن یاہو سے متعلق بڑا دعویٰ، جلد وائٹ ہاؤس میں ملاقات متوقع
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کی ہے، جو آئندہ ہفتے یا اس کے بعد متوقع ہے۔ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے تعلقات اچھے ہیں، اور نیتن یاہو جانتے ہیں کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کے درمیان فروری میں ہونے والی ملاقات کے بعد پہلی ہوگی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے باعث ملاقات میں معمولی تاخیر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے امریکہ کی ڈھائی سوویں یومِ آزادی پر ٹرمپ کو مبارک باد دی اور دونوں رہنماؤں نے جلد ملاقات پر اتفاق کیا۔
رپورٹ کے مطابق، حالیہ مہینوں میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایران، لبنان، علاقائی سلامتی اور سیاسی معاملات پر اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر بھی ناپسندیدگی ظاہر کرتے ہوئے نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ چاہتا تو آخری رسومات میں موجود تمام اعلیٰ ایرانی قیادت کو نشانہ بنا سکتا تھا، مگر ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ پھر مذاکرات کے لیے کوئی باقی نہیں رہتا۔ انہوں نے آخری رسومات میں شریک سوگواروں پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شاید یہ "مصنوعی آنسو” ہوں۔
یہ ممکنہ ملاقات اسرائیل کے آئندہ انتخابات سے قبل نیتن یاہو کے لیے سیاسی لحاظ سے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔



