بین الاقوامیعرب دنیا

ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز، لاکھوں افراد کی شرکت

آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات شروع، ایران میں سوگ کی فضا، لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

ایران کے سابق سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی کئی روز پر مشتمل آخری رسومات کا ہفتہ کے روز باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ حکام کے مطابق دارالحکومت تہران میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے، جبکہ یہ ایران کی تاریخ کی سب سے بڑی سرکاری آخری رسومات میں شمار کی جا رہی ہیں۔

آیت اللہ علی خامنہ ای گزشتہ فروری میں جنگ کے آغاز پر ہونے والے فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ ان کی میت کو تہران کے گرینڈ مصلیٰ میں عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا، جہاں صبح سویرے ہی ہزاروں سوگوار سیاہ لباس پہن کر پہنچنا شروع ہوگئے۔ کئی افراد بینرز اور قومی پرچم اٹھائے ہوئے تھے، جبکہ شہر بھر میں ان کی تصاویر آویزاں کی گئی ہیں۔

سوگواروں نے روایتی انداز میں سینہ کوبی کی اور اپنے رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا۔ ملک کے مختلف شہروں سے بھی بڑی تعداد میں لوگ تہران پہنچے ہیں۔ حکومت کو امید ہے کہ لاکھوں افراد کی شرکت قومی اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے گی۔

حکام کے مطابق آخری رسومات کے دوران تہران سمیت کئی شہروں میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ متعدد سڑکیں بند کر دی گئی ہیں، فضائی حدود پر عارضی پابندیاں عائد ہیں اور شہری سرگرمیوں کو بھی محدود کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس دوران کسی قسم کی فوجی کارروائی یا اشتعال انگیزی کی گئی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ نئے سپریم رہنما آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسومات میں عوامی طور پر شرکت کریں گے یا نہیں، کیونکہ وہ حالیہ حملوں کے بعد منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button