تلنگانہ ہائی کورٹ کا اہم اقدام، اردو میں ووٹر فارم دینے کی درخواست پر غور کا حکم
اردو بولنے والی آبادی والے حلقوں میں فارم کی فراہمی سے متعلق الیکشن کمیشن سے مؤقف طلب
تلنگانہ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدایت دی ہے کہ وہ خصوصی ووٹر نظرثانی مہم کے دوران ان اسمبلی حلقوں میں اردو زبان میں اندراجی فارم فراہم کرنے کی درخواست پر غور کرے، جہاں بیس فیصد یا اس سے زیادہ آبادی اردو سے واقف ہے۔
یہ ہدایت جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے ایک درخواست کی سماعت کے دوران دی، جو کریم نگر کے ایک سماجی کارکن نے دائر کی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ تلنگانہ میں ووٹر اندراجی فارم صرف تلگو زبان میں تقسیم کیے جا رہے ہیں، جس سے اردو بولنے والے شہریوں کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ عام طور پر عدالتیں الیکشن کمیشن کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتیں، تاہم کمیشن سے یہ بھی پوچھا گیا کہ آسام، بہار اور مغربی بنگال میں اسی نوعیت کے معاملات میں کیا پالیسی اختیار کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ تلگو ریاست کی سرکاری زبان ہے، اس لیے فارم اسی زبان میں شائع کیے گئے ہیں، جبکہ حیدرآباد کے علاقوں میں ووٹروں کی سہولت کے لیے انگریزی فارم بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چیف الیکٹورل آفیسر کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اردو بولنے والے شہریوں کی مدد کے لیے بوتھ سطح کے افسران پانچ سے دس نمونہ اردو فارم بھی ساتھ رکھیں گے تاکہ فارم بھرنے میں آسانی ہو۔
عدالت نے معاملے پر الیکشن کمیشن سے غور کرنے کو کہا ہے اور آئندہ سماعت میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔



