لوہ گڑھ قتل کیس سیا انکار کرتی تو شادی منسوخ کر دیتے، بھائی کا بیان
معروف کاروباری شخصیت کیتن اگروال کے قتل کیس میں تحقیقات نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ پولیس نے مرکزی ملزمہ سیا گوئل کے بھائی ساحل گوئل سے تقریباً دس گھنٹے تک پوچھ گچھ کی، جس دوران انہوں نے کہا کہ اگر سیا نے شادی پر کسی قسم کا اعتراض یا ناگواری ظاہر کی ہوتی تو خاندان فوراً یہ رشتہ ختم کر دیتا۔
پولیس کے مطابق ساحل سے سیا گوئل اور شریک ملزم چیتن چودھری کے تعلقات سمیت کئی اہم نکات پر تفصیلی سوالات کیے گئے۔ ساحل کا کہنا تھا کہ اگر ان کی بہن نے صاف لفظوں میں کہا ہوتا کہ وہ کیتن سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو شادی منسوخ کر دی جاتی۔
پولیس کا الزام ہے کہ 18 جون کو لوہ گڑھ قلعہ میں سیا گوئل اور اس کے مبینہ عاشق چیتن چودھری نے منصوبہ بندی کے تحت کیتن اگروال کو پہاڑی سے دھکا دے کر قتل کیا۔ ابتدائی طور پر اس واقعے کو ٹریکنگ کے دوران پیش آنے والا حادثہ سمجھا گیا، لیکن بعد میں نگرانی کیمروں کی ویڈیوز اور دیگر شواہد نے تحقیقات کا رخ بدل دیا۔
تحقیقات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیا گوئل نے واقعے سے قبل کئی مرتبہ کیتن کو لوہ گڑھ قلعہ لے جانے پر زور دیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک موقع پر اس نے مبینہ طور پر کیتن کو دھکا دینے کی بھی کوشش کی، تاہم وہ بچ نکلے۔ بعد میں سیا نے اس کی وجہ قریب سانپ ہونے کو بتایا۔
دوسری جانب سیا کی والدہ نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی اس دن قلعے جانے کی خواہش مند نہیں تھی، بلکہ کیتن اور اس کے اہل خانہ کے اصرار پر وہاں گئی تھی۔ سیا کے والد نے بھی شادی پر کروڑوں روپے خرچ ہونے کی خبروں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی کا خرچ تین کروڑ روپے سے کم رہنے والا تھا۔
ادھر کیتن اگروال کے والد وشال اگروال نے واضح کیا کہ اگر سیا کو کسی بھی بات پر اعتراض تھا تو وہ آسانی سے شادی سے انکار کر سکتی تھی۔ انہوں نے ان افواہوں کی بھی تردید کی کہ کیتن کے بالوں سے متعلق مسئلہ اس واقعے کی وجہ بنا۔
یہ مقدمہ پورے مہاراشٹر میں موضوعِ بحث بن چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کے بعد مکمل قانونی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ ریاستی حکومت نے مقدمہ تیز رفتار عدالت میں چلانے اور سینئر وکیل اجول نِکم کو خصوصی سرکاری وکیل مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس واقعے کو نہ صرف ایک سنگین جرم بلکہ معاشرے کے لیے باعثِ تشویش سماجی مسئلہ بھی قرار دیا۔



