بین الاقوامیعرب دنیا

یوکرینی ڈرون حملوں سے روسی رسد اور تیل نظام متاثر

یوکرین نے اپنی جنگی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے روس کی فوجی رسد، ایندھن کی ترسیل اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جس کے باعث روس پر دباؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یوکرین اب براہِ راست محاذی حملوں کے بجائے روس کی سپلائی لائنز کو کمزور کرنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یوکرینی افواج نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کے ذریعے روس کے اندر ایندھن بردار قافلوں، فوجی ٹرکوں، ریل گاڑیوں اور دیگر رسدی ذرائع پر متعدد حملے کیے ہیں۔ امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک ایسے 150 سے زائد حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن میں کم از کم 20 ایندھن بردار ریل گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں۔

خاص طور پر روستوف آن ڈان سے کریمیا تک جانے والی اہم شاہراہ آر-280 یوکرینی حملوں کا اہم ہدف بنی ہوئی ہے۔ یہ راستہ روسی افواج کے لیے ایندھن، اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کرتا تھا۔ مسلسل حملوں کے باعث اس شاہراہ پر ٹریفک میں 70 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

یوکرینی افواج نے روس کی تیل ریفائنریوں اور توانائی تنصیبات کو بھی بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا ہے۔ فروری 2022 سے اپریل 2026 تک روس کی درجنوں بڑی ریفائنریوں پر حملے کیے گئے۔ صرف رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں متعدد حملوں کے نتیجے میں روزانہ لاکھوں بیرل تیل صاف کرنے کی صلاحیت متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روس دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، لیکن توانائی تنصیبات پر مسلسل حملوں کے باعث ملک کو ایندھن کی قلت اور رسد کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یوکرین کی نئی حکمت عملی کا مقصد روسی فوجی صلاحیت، لاجسٹک نظام اور معیشت کو بیک وقت کمزور کرنا ہے۔

ان حملوں کے بعد ماسکو میں بھی بے چینی بڑھ گئی ہے اور روسی دارالحکومت کے قریب ڈرون حملوں کے خدشات نے عوامی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button