جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ٹرمپ برہم، اسرائیل کو تحمل کا مشورہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ پر کیے گئے حملوں پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے میں مداخلت کر چکے ہیں اور اسرائیلی قیادت کو تحمل اور دانشمندی سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔
ایک میڈیا ادارے کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے خود اسرائیل کو حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی پر رضامند ہونے کے لیے آمادہ کیا تھا۔ ان کے مطابق اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ ایران کے ساتھ ممکنہ سفارتی پیش رفت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
امریکی صدر نے بتایا کہ حالیہ حملوں کے بعد انہوں نے اسرائیلی حکام سے براہِ راست رابطہ کیا اور انہیں تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا۔ ٹرمپ کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی اور لڑائی میں شدت آئی تو امن کے لیے جاری سفارتی کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے اسرائیل کو یہ پیغام بھی دیا کہ "کبھی کبھی پرسکون رہنا چاہیے اور عقل مندی سے فیصلے کرنے چاہئیں۔”
دوسری جانب ٹرمپ نے اپنی خارجہ پالیسی کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے بڑا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی قیادت اور فیصلے نہ ہوتے تو اسرائیل کو سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑتا۔ ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اس معاہدے کو ختم نہ کرتے تو آج اسرائیل کی صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔



