ہند۔ڈنمارک کا مشترکہ مشن، 400 سال پرانے تاریخی بحری جہاز کی تلاش شروع
ہندوستان اور ڈنمارک نے سمندر کی تہہ میں موجود تاریخی ورثے کی تلاش کے لیے ایک اہم معاہدہ کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد تقریباً چار سو سال پرانے ڈنمارک کے تاریخی جہاز "اوریسنڈ” کے آثار تلاش کرنا اور ان کی دستاویزی تحقیق کرنا ہے۔
ثقافتی حکام کے مطابق یہ تاریخی جہاز 1619ء میں پڈوچیری کے قریب کارائیکل کے ساحلی علاقے میں حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ یہ جہاز تاریخ میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اسے ہندوستان پہنچنے والا پہلا معروف ڈنمارکی جہاز قرار دیا جاتا ہے۔
اس مشترکہ منصوبے کے تحت ہندوستانی ماہرین اور ڈنمارک کے ماہرین جدید سائنسی طریقوں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سمندر کی تہہ میں جہاز کے ممکنہ آثار تلاش کریں گے۔ حکام نے بتایا کہ تحقیق کے دوران ماحول یا آثار کو نقصان پہنچائے بغیر غیر مداخلتی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے سترہویں صدی میں ہندوستان اور ڈنمارک کے درمیان بحری روابط، تجارت اور سمندری سفر کی تاریخ کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان علمی اور سائنسی تعاون کو بھی فروغ دے گا۔



