بین الاقوامیعرب دنیا

ٹرمپ، پوتن اور زیلنسکی کے اہم رابطے، جنگ کے دوران روس پر ڈرون حملوں میں ہلاکتیں

حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کی۔ یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بدستور جاری ہے اور عالمی توجہ آئندہ جی سیون سربراہی اجلاس پر مرکوز ہے۔

روسی صدارتی دفتر کے مطابق پوتن اور ٹرمپ کے درمیان تقریباً ایک گھنٹے تک بات چیت ہوئی، جس میں جنگ کے خاتمے، امن مذاکرات اور مستقبل کے تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پوتن نے کہا کہ یوکرین کے حملے روس کے مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتے، جبکہ انہوں نے زیلنسکی کو ماسکو آ کر ملاقات کی دعوت بھی دی۔

دوسری جانب زیلنسکی نے ٹرمپ سے گفتگو کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے امن کے امکانات اور محاذ پر موجودہ صورتحال پر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ یوکرینی افواج کی پوزیشن میں بہتری آئی ہے اور جی سیون اجلاس میں مزید مشاورت ہوگی۔

ادھر جنگی محاذ پر کشیدگی برقرار رہی۔ یوکرینی ڈرون حملوں میں روس کے مختلف علاقوں میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ ایک حملے میں تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔

اسی دوران برطانیہ نے روس سے منسلک ایک مشتبہ بحری جہاز کو تحویل میں لے لیا۔ برطانوی حکومت کے مطابق یہ جہاز پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے مبینہ نیٹ ورک کا حصہ تھا۔

ماہرین کے مطابق سفارتی رابطوں کے باوجود روس۔یوکرین تنازع اب بھی عالمی سیاست کا اہم ترین مسئلہ بنا ہوا ہے، جبکہ جی سیون اجلاس میں اس پر اہم پیش رفت متوقع ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button