تعلیم کے انصاف کے لیے حیدرآباد میں آواز بلند، طلبہ اور والدین کا احتجاج
حیدرآباد کے دھرنا چوک میں طلبہ، والدین، اساتذہ اور سماجی کارکنوں نے امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شفاف تعلیمی نظام اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے کہا کہ لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے اور اس معاملے پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ حالیہ امتحانات سے متعلق سامنے آنے والے تنازعات نے طلبہ اور والدین میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار حکام جوابدہی قبول کریں اور تعلیمی نظام میں ضروری اصلاحات نافذ کی جائیں۔
احتجاج کے دوران ایک کم عمر طالبہ نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور اسے صرف خوشحال طبقے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے خیالات کو شرکاء نے بھرپور سراہا۔
اس موقع پر کئی والدین نے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے بڑی قربانیاں دیتے ہیں، لیکن جب امتحانی نظام پر سوالات اٹھتے ہیں تو ان کی امیدیں متاثر ہوتی ہیں۔
ایک سابق پارلیمانی رپورٹر نے کہا کہ ماضی میں عوامی مسائل پر فوری جوابدہی دیکھنے کو ملتی تھی، جبکہ آج عوام کو انصاف کے حصول کے لیے آواز بلند کرنا پڑ رہی ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کے مستقبل سے جڑے معاملات میں سنجیدگی اور شفافیت ناگزیر ہے۔
شرکاء نے امید ظاہر کی کہ عوامی آواز کے نتیجے میں تعلیمی نظام میں بہتری آئے گی اور طلبہ کے حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔



