ایران معاہدے پر ابہام برقرار، وائٹ ہاؤس کے بڑے دعوؤں پر سوالات
امریکا کے وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تنازع میں اپنے اہم اہداف حاصل کر لیے ہیں، تاہم مجوزہ معاہدے کی تفصیلات اب تک خفیہ رکھی گئی ہیں، جس کے باعث مختلف حلقوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری نکات میں کہا گیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضامندی ظاہر کی ہے، آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی اور لبنان میں لڑائی ختم ہو جائے گی۔ تاہم ان دعوؤں کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ایک ابتدائی مفاہمتی دستاویز پر جلد دستخط متوقع ہیں، لیکن اس کے مندرجات سے نہ صرف امریکی قانون ساز بلکہ کئی اتحادی ممالک بھی لاعلم ہیں۔ اسی وجہ سے سیاسی حلقوں میں تشویش اور شکوک و شبہات پائے جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ معاہدے کو کانگریس میں پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ معاہدے سے توانائی کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور عالمی تجارت کو فائدہ ہوگا۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق زمینی صورتحال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں اور معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس کی حتمی شرائط پر ہوگا۔



