امریکا، ایران معاہدے میں پیش رفت، آبنائے ہرمز کھولنے کی تیاری
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگی کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہونے والے ممکنہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی اور بحری سرگرمیوں کی بحالی کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب رہے تو اہم بحری راستوں کو دوبارہ کھولنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی علاقائی خودمختاری اور سلامتی کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، تاہم جنگ کے خاتمے اور خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق معاہدے کے مسودے پر مختلف سطحوں پر بات چیت ہو رہی ہے اور آئندہ چند دنوں میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو تیل فراہم کیا جاتا ہے۔ اگر معاہدہ کامیاب ہوتا ہے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہوگی بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ سمجھوتہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے، تاہم حتمی نتائج کا انحصار آئندہ مذاکرات پر ہوگا۔



