بین الاقوامیعرب دنیا

سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے اہم مذاکرات آج

ایران کے جوہری پروگرام اور لبنان جنگ بندی پر پیش رفت کی امید، عالمی نظریں مذاکرات پر مرکوز

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کے سلسلے میں ایرانی وفد ہفتے کی شب سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا، جہاں اس کی امریکہ کے نمائندوں کے ساتھ اہم مذاکرات متوقع ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی دستاویز پر عمل درآمد اور خطے میں تنازعات کو کم کرنا ہے۔

سوئس حکام نے ایرانی وفد کی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سوئٹزرلینڈ ہمیشہ سے حساس بین الاقوامی مذاکرات کے لیے ایک غیر جانبدار اور قابل اعتماد مقام فراہم کرتا آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم، جسے "میناب 168” کا نام دیا گیا ہے، مذاکراتی مقام کی جانب روانہ ہو چکی ہے۔

یہ مذاکرات ابتدا میں جمعہ کے روز ہونا تھے، تاہم بعض وجوہات کے باعث انہیں مؤخر کر دیا گیا تھا۔ اب امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ فریقین کئی روز تک جاری رہنے والے مذاکرات میں اہم پیش رفت حاصل کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں۔ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ مذاکرات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہوگی۔ ان کے مطابق یہی دو اہم معاملات ہیں جن پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

وینس نے مزید کہا کہ ایران بھی اپنے خدشات اور مطالبات مذاکراتی میز پر رکھے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان بہتر سمجھ بوجھ پیدا ہونے کی توقع ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں دوبارہ تشدد کے واقعات سفارتی کوششوں کے لیے چیلنج بن رہے ہیں۔ اگر بات چیت کامیاب رہی تو یہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button