آبنائے ہرمز پر عمان کا بڑا وضاحتی بیان، جہازوں سے لازمی فیس کی خبروں کی تردید
ایران سے مذاکرات جاری، عالمی قوانین کے تحت آزاد بحری آمد و رفت برقرار رکھنے پر زور
عمان نے ان خبروں کی تردید کر دی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر لازمی راہداری فیس عائد کرنے کی حمایت کر رہا ہے۔ عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا مقصد لازمی فیس نہیں بلکہ رضاکارانہ بحری خدمات کے فروغ پر غور کرنا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ عمان بین الاقوامی سمندری قوانین اور آزادانہ بحری آمد و رفت کے اصولوں کا مکمل احترام کرتا ہے۔ ان کے مطابق جہازوں پر لازمی فیس عائد کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، تاہم سمندری حفاظت، ماحولیات کے تحفظ اور ہنگامی امداد جیسے شعبوں میں رضاکارانہ تعاون پر بات ہو سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عمان اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ آبنائے ہرمز سے متعلق مستقبل کے تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہوں گے۔ عمان نے ایک بار پھر اس اہم بحری گزرگاہ کو محفوظ، پرامن اور تمام ممالک کے لیے کھلا رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دوسری جانب قطر نے احتیاطی تدابیر کے تحت تفریحی کشتیوں، ماہی گیری کی کشتیوں اور دیگر چھوٹے بحری وسائل کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں، جبکہ تجارتی جہاز معمول کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے۔
ادھر فرانس اور عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کو محفوظ بنانے، بارودی سرنگوں کی صفائی اور آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون پر اتفاق کیا ہے۔
اسی دوران امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور دوحہ میں متوقع ہے، جہاں خطے کی کشیدگی کم کرنے اور بحری سلامتی سمیت اہم امور پر بات چیت کی جائے گی۔


