بین الاقوامیعرب دنیا

آبنائے ہرمز پر کشیدگی کم، ایران اور امریکہ کے مذاکرات دوبارہ شروع

جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق، تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال کرنے کی کوششیں تیز

امریکہ اور ایران نے آبنائے ہرمز کے اطراف حالیہ فوجی کشیدگی کو روکنے اور مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام کے مطابق جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور خطے میں استحکام قائم رکھنے کے لیے تکنیکی سطح پر بات چیت جاری رہے گی۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں ہونے والے فوجی حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک نے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال دونوں فریق حملے روکیں گے تاکہ بحری تجارت معمول پر آ سکے۔

تاہم آبنائے ہرمز کے انتظام اور نگرانی کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ حالیہ مفاہمتی دستاویز کے مطابق اس آبی گزرگاہ کے انتظام کی ذمہ داری صرف ایران کے پاس ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی بیرونی مداخلت سے حالات دوبارہ خراب ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ نے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی بحری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت ہر صورت برقرار رہنی چاہیے۔ امریکی حکام نے خبردار کیا کہ اگر تجارتی جہازوں پر دوبارہ حملے ہوئے تو سخت جواب دیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ مزید سخت اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔

ادھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی اس پیش رفت کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محتاط انداز میں بحالی عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے مثبت اشارہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق آئندہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام، خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور بحری سلامتی جیسے اہم معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button