خامنہ ای کی آخری رسومات پر ٹرمپ کا طنز، ایران کو ایک ہفتے کی مہلت دی
خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران ٹرمپ کا بیان، ہم اچھے ہیں، اس لیے ایران کو ایک ہفتہ دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سابق سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کو صرف اس لیے ایک ہفتے کی مہلت دی کیونکہ "ہم اچھے لوگ ہیں”۔
ساؤتھ ڈکوٹا میں ماؤنٹ رش مور پر امریکہ کی دو سو پچاسویں یومِ آزادی کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ ختم کرنے کے لیے بے حد بے چین ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا، "ہم نے ایران کو سخت نقصان پہنچایا، وہ سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں، اور ہم نے انہیں صرف آخری رسومات کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی کیونکہ ہم اچھے ہیں۔”
ٹرمپ کے اس بیان پر تقریب میں موجود شرکا نے زور دار تالیاں بجائیں، جبکہ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایک ہفتے پر محیط سرکاری آخری رسومات کا آغاز ہو چکا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای گزشتہ فروری میں جنگ کے آغاز کے دوران ہونے والے مشترکہ فضائی حملے میں اپنے خاندان کے چند افراد کے ساتھ ہلاک ہوئے تھے۔ سکیورٹی صورتحال کے باعث ان کی تدفین مؤخر کر دی گئی تھی، جس کے بعد جنگ بندی کے بعد اب آخری رسومات منعقد کی جا رہی ہیں۔
حکام کے مطابق جنازے کا جلوس قم، نجف اور کربلا سے ہوتا ہوا ۹ جولائی کو مشہد پہنچے گا، جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکہ میں یومِ آزادی کی تقریبات بھی بھرپور انداز میں جاری ہیں، جہاں مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات، فوجی فضائی مظاہرے اور آتش بازی کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔



