خامنہ ای کی تدفین کے بعد کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کا ایران کو سخت انتباہ
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی مفادات یا ان کی جان کو خطرہ پہنچانے کی کوئی کوشش کی گئی تو امریکہ بھرپور فوجی ردعمل دے گا۔
رپورٹس کے مطابق خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران بعض شرکاء نے ایسے نعرے اور بینرز اٹھائے جن میں ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے بعد امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ اگر ایران نے کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کی تو امریکہ فوری اور سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ باضابطہ طور پر اعلان کرے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے محفوظ اور کھلی رہے گی اور وہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملے نہیں کیے جائیں گے۔
تاہم تہران نے اس مطالبے کو قبول کرنے کے بجائے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اختیار ایران کا ہے اور اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کے حوالے سے فیصلے بھی وہی کرے گا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے لیے محدود وقت دیا ہے، تاہم اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکہ کے پاس مختلف متبادل راستے موجود ہیں۔ دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق تمام فیصلے اس کی خودمختاری کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات عالمی تجارت، تیل کی سپلائی اور مشرقِ وسطیٰ کے امن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔



