امریکی حملوں کے جواب میں ایران کی خلیجی شہروں پر کارروائیاں، آبنائے ہرمز دوبارہ بند
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جبکہ امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں نئی فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔
ایران کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک بحری جہاز نے مقررہ راستے اور فوجی ہدایات کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد ایرانی فورسز نے انتباہی فائرنگ کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ آبی گزرگاہ آئندہ حکم تک بند رہے گی اور اگر مزید حملے کیے گئے تو خطے میں موجود دشمن کے دیگر فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی مرکزی فوجی کمان نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف اس ہفتے کی تیسری بڑی فوجی کارروائی مکمل کر لی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق کارروائی میں تقریباً 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری فوجی مراکز، اسلحہ گودام، مواصلاتی نظام اور ساحلی نگرانی کے مراکز شامل ہیں۔
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق بندر عباس اور سیریک سمیت کئی ساحلی علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس سے قبل ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ پر بات چیت بھی کی تھی، تاہم تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد مذاکراتی عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
ادھر ایران کے نئے سپریم لیڈر نے اپنے پہلے عوامی بیان میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے مناسب طریقہ کار پر غور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی تجارت، تیل کی سپلائی اور سمندری نقل و حمل کے لیے بھی سنگین خدشات پیدا کر رہی ہے۔



