بھارتی نژاد خلا باز انیل مینن بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچ گئے، سائنسی مشن کا آغاز
بھارتی نژاد امریکی خلا باز ڈاکٹر انیل مینن کامیابی کے ساتھ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ آئندہ آٹھ ماہ تک سائنسی تحقیق اور مختلف تکنیکی تجربات میں حصہ لیں گے۔ وہ روسی خلانورد پیوتر دوبروف اور اینا کیکینا کے ساتھ مشترکہ مشن پر روانہ ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر انیل مینن نے روسی خلائی جہاز سویوز کے ذریعے قازقستان کے خلائی اڈے سے پرواز کی۔ تقریباً تین گھنٹے کے سفر کے بعد خلائی جہاز نے کامیابی سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے ساتھ رابطہ قائم کیا، جہاں عملے کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
خلائی ادارے کے سربراہ نے انیل مینن اور ان کے ساتھیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ مشن نہ صرف نئی سائنسی معلومات فراہم کرے گا بلکہ دنیا بھر کے لاکھوں نوجوانوں کو سائنس اور خلائی تحقیق کی جانب راغب بھی کرے گا۔
ڈاکٹر انیل مینن امریکہ میں پیدا ہوئے، تاہم ان کے والد کا تعلق کیرالہ کے ضلع پالاکاڈ سے ہے، جبکہ ان کی والدہ یوکرین سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر، مکینیکل انجینئر، پائلٹ اور فوجی طبی ماہر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے وسیع تجربے کی وجہ سے انہیں اس اہم خلائی مشن کے لیے منتخب کیا گیا۔
اس مشن کے دوران انیل مینن طویل مدت تک خلا میں انسانی صحت پر پڑنے والے اثرات، جدید سائنسی تجربات اور مستقبل کے خلائی سفر سے متعلق مختلف منصوبوں پر تحقیق کریں گے۔ ماہرین کے مطابق ان تحقیقات سے آئندہ انسانوں کے طویل خلائی سفر اور دیگر سیاروں تک مشن بھی زیادہ محفوظ اور مؤثر بنائے جا سکیں گے۔
ڈاکٹر انیل مینن کی یہ کامیابی نہ صرف بھارتی نژاد برادری بلکہ پوری دنیا کے نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزا مثال سمجھی جا رہی ہے۔



