یمن کا سعودی عرب کے ابھا ہوائی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملہ
یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے ابھا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی، جن کا الزام انہوں نے سعودی عرب پر عائد کیا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ سعودی فضائی حدود استعمال کرنے والی تمام ایئرلائنز محتاط رہیں، کیونکہ جب تک صنعاء ہوائی اڈے پر عائد پابندیاں ختم نہیں ہوتیں، مزید کارروائیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔ اگرچہ اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم اسے دونوں فریقوں کے درمیان حالیہ برسوں کی سب سے بڑی کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے کہا کہ صنعاء ہوائی اڈے پر حملے کا مقصد ایک ایرانی طیارے کو اترنے سے روکنا تھا۔ حکام کے مطابق اس طیارے میں حوثی وفد موجود تھا، جو ایران سے واپس آ رہا تھا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ اقوام متحدہ کے حکام نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو پورا خطہ ایک نئے بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ عالمی ادارے نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کریں۔
یاد رہے کہ 2014 سے جاری یمن کی خانہ جنگی کے دوران حوثیوں نے صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے فوجی کارروائیاں شروع کیں۔ 2022 میں جنگ بندی کے بعد نسبتاً سکون رہا، لیکن حالیہ واقعات نے ایک بار پھر خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔



