ایران کی امریکی بحری جہازوں پر مزید حملوں کی دھمکی، آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ اتوار، چھ ستمبر کو اپنے 190ویں دن میں داخل ہوگئی۔ جہاز رانی پر نئے حملوں اور دھمکیوں نے کشیدگی کے خدشات بڑھے ہیں۔
ایرانی فوج نے خبردار کیا واشنگٹن کی جانب سے ایرانی بحری جہازوں کی ہراسانی جاری رہی تو امریکی بحری اہداف کے خلاف کارروائیاں شدید ہوسکتی ہیں۔ ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ایران سخت جواب دے گا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکی افواج ایرانی تیل بردار بیڑے کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔ امریکی طیارے، جنگی جہاز اور آبدوزیں ایرانی ٹینکروں کو نشانہ بناسکتی ہیں۔
خلیجی پانیوں میں نئی جھڑپیں
مرکزی کمان کے مطابق جہاز ایم ٹی کائیلو خلیج عمان میں کارروائی کے بعد ڈوب گیا۔ دوسری جانب پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والی ایک امریکی خودکار بحری کشتی کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہے اور امریکی نقل و حرکت کا سخت جواب دیا جائے گا۔
برطانوی بحری تجارتی ادارے کے مطابق شمالی خلیج عرب اور خلیج عمان میں کئی تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں، تاہم جانی یا ماحولیاتی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
معاشی دباؤ
ایران نے معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے اقتصادی جنگ کنٹرول مرکز قائم کرنے کا اعلان کیا۔ نائب وزیر خزانہ مرتضیٰ زمانیان کے مطابق یہ مرکز کاروبار، تجارت اور مالیاتی معاملات پر توجہ دے گا۔
ایک خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی خفیہ اداروں کا اندازہ ہے کہ ایران مستقبل قریب میں امریکی اور اسرائیلی اہداف پر حملے بڑھانے پر غور کررہا ہے، تاہم ممکنہ اسرائیلی ردعمل تہران کو روک رہا ہے۔



