تلنگانہ اسمبلی کا مون سون اجلاس، حکومت اور اپوزیشن میں ٹکراؤ متوقع
تلنگانہ اسمبلی کا مون سون اجلاس پیر سے شروع ہوگا، جس میں کانگریس اور حزب اختلاف بھارت راشٹر سمیتی کے درمیان سیاسی ٹکراؤ متوقع ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بھی حکومت کو گھیرنے کی تیاری میں ہے۔
وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت ہر معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بی آر ایس صدر کے چندر شیکھر راؤ کو اجلاس میں شرکت کا چیلنج دیتے ہوئے الزام لگایا کہ دسمبر 2023 میں اقتدار سے محرومی کے بعد وہ فارم ہاؤس تک محدود ہیں۔
ریونت ریڈی نے کانگریس حکومت کے 1000 دن اور بی آر ایس کی دس سالہ حکمرانی پر بحث کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے کے سی آر سے قائد حزب اختلاف کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔
وزیراعلیٰ کے مطابق گزشتہ 1000 دنوں میں ریاست نے کے سی آر کی تنخواہ پر 1 کروڑ 24 لاکھ روپے، جبکہ سیکیورٹی اور سہولیات پر 21 کروڑ روپے خرچ کیے۔
بی آر ایس کا جوابی حملہ
بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ نے حکومت کے 1000 دن مکمل ہونے پر چارج شیٹ جاری کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت انتخابی وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی، جس سے کسانوں، طلبہ، خواتین اور ملازمین کو مشکلات پیش آئیں۔
بی جے پی کے اعتراضات
بی جے پی رجسٹریشن قانون کی دفعہ 22 اے کے تحت اراضی کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیے جانے سمیت دیگر مسائل اٹھائے گی۔
نیٹ احتجاج کے بعد ریونت ریڈی نے جولائی میں کہا تھا کہ حکومت اسمبلی میں قرارداد لائے گی، جس کے ذریعے انتخابات لڑنے کی کم از کم عمر 25 سے گھٹا کر 21 سال کرنے کی سفارش کی جائے گی۔



