ادب

وقار خلیل: اردو صحافت اور شعری و ادبی افق کا ایک درخشاں ستارہ

Waqar Khalil | Urdu Journalist, Poet and Literary Figure

اردو زبان و ادب، بالخصوص دکن کی زرخیز تہذیب و تمدن میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی پوری زندگی قلم، قرطاس اور زبان و بیان کی خدمت کے لیے وقف ہوتی ہے۔ حضرت وقار خلیل ایسی ہی ایک نابغہ روزگار اور ہم جہت شخصیت کا نام ہیں، جنہوں نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں سے نہ صرف اردو صحافت کو ایک نیا رنگ اور آہنگ بخشا، بلکہ بچوں کے ادب کی آبیاری اور جدید و کلاسیکی شعری روایت میں بھی گراں قدر اضافے کیے۔ دکن کی یہ وہ مٹی ہے جہاں صوفیا اور ادبا نے ہمیشہ محبت، علم اور اخوت کا درس دیا، اور وقار خلیل اسی روایت کے امین و پاسبان تھے۔

خاندانی پس منظر اور اجداد کا علمی ورثہ

حضرت وقار خلیل کا خاندانی پس منظر علم، تصوف اور اردو زبان کی خدمت سے مالا مال ہے۔ آپ کا اصل نام سید شاہ محمد خلیل الرحمن حسینی ہے، جب کہ آپ کی ولادت 29 اگست 1930ء کو گوگی شریف (تحصیل شاہ پور، ضلع گلبرگہ، جو اب کرناٹک کا حصہ ہے) میں ہوئی۔

  • خاندانی نسبت: آپ کے جدِ امجد سید شاہ محمد حسینی کو مغل دورِ حکومت یعنی عہدِ عالمگیر میں "کوہ سوار” کے خطاب سے نوازا گیا تھا، جس کی نسبت سے یہ خاندان "کوہ سوار” کے نام سے بھی معروف ہوا۔
  • صوفیانہ وراثت: آپ کے والدِ محترم حضرت شاہ محمد خلیل الرحمن حسینی خود ایک معروف صوفی سخنور تھے، جن کا تخلص محمود تھا۔ آپ کا مزار "من لگن” کے مقام پر گوگی شریف واقع درگاہ تفتہ شاہ پور میں مرجعِ خلائق ہے۔
  • تدریسی روایات: آپ کے دادا حضرت سید شاہ محمد چندا حسینی "نامی” کوہ سوار نظامی نے اپنی زندگی کے پانچ دہے درس و تدریس کے لیے وقف کر دیے تھے اور بحیثیتِ استادِ اردو ہزاروں طلبہ کو زیورِ تعلیم سے آراسته کیا۔

ابتدائی تعلیم اور ازدواجی و خاندانی زندگی کا آغاز

ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولنے جہاں علم اور تربیت کی فضائیں سانس لیتی ہوں، وقار خلیل کی ابتدائی تربیت نہایت صاف ستھری اور اقدار پر مبنی ماحول میں ہوئی۔

  • تعلیمی مدارج: آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد منشی اور پھر سال 1972ء میں ویسٹرن یونیورسٹی جالندھر سے "منشی فاضل” کی اعلیٰ سند حاصل کی۔
  • فکری بلوغت: خاندانی اثرات اور باقاعدہ علمی اسناد نے آپ کے فکری زاویوں کو وسعت دی، جس کا پرتو آگے چل کر آپ کی نثری اور شعری تخلیقات میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔

صحافتی سفر کا آغاز اور روزنامہ "میزان”

تاریخی نشیب و فراز، بالخصوص سقوطِ حیدرآباد کے بعد آپ کے خاندان کو حیدرآباد منتقل ہونا پڑا، جہاں آپ نے اپنے وطنِ ثانی میں صحافتی و ادبی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کیا۔

  • میزان کی اشاعت: حیدرآباد سے ان دنوں روزنامہ "میزان” بڑی آب و تاب کے ساتھ جاری ہوتا تھا، جس کے بانی حبیب اللہ اوج تھے۔ یہیں سے وقار خلیل کی باقاعدہ صحافتی زندگی کا آغاز ہوا۔
  • سہ لسانی اہمیت: روزنامہ "میزان” کی مقبولیت کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ یہ اخبار بیک وقت تین زبانوں (اردو، انگریزی اور تلگو) میں شائع ہوتا تھا۔
  • بچوں کا ذوق: اس اخبار میں بچوں کے ذوق و شوق اور ان کی ذہنی تربیت کے لیے کہانیاں، نظمیں، پہیلیاں اور گیت باقاعدگی سے شائع کیے جاتے تھے، جن کی ترتیب میں وقار خلیل پیش پیش رہے۔

روزنامہ "ملاپ” اور بچوں کے ادب میں انقلاب

سال 1933ء میں حیدرآباد میں روزنامہ "ملاپ” کی بنیاد ڈالی گئی۔ یہ اخبار اپنی ادبی اہمیت اور سنجیدہ صحافت کے لیے پورے دکن میں مشہور تھا۔

  • بال سبھا کا قیام: روزنامہ "ملاپ” میں بچوں کا صفحہ انتہائی مقبول تھا۔ ابتدا میں اسے علاء الدین حبیب ترتیب دیا کرتے تھے، لیکن بعد میں یہ صفحہ باقاعدہ طور پر وقار خلیل کے سپرد کر دیا گیا۔
  • دلچسپ اداریے: وقار خلیل اس صفحے کے تحت "کوپر لطف و دلچسپ انداز میں پیش کرتے تھے” اور اس صفحے کا نام "بال سبھا” رکھا گیا۔ اسی صفحے کی بدولت روزنامہ "ملاپ” نے بچوں میں بے پناہ شہرت اور مقبولیت حاصل کی۔

ماہنامہ "نیا ہند”، "ترجمان مخزن” اور "انعام”

وقار خلیل کی صحافتی لگن صرف ایک اخبار تک محدود نہیں رہی، بلکہ انہوں نے برصغیر کے کئی نامور رسائل و جرائد کے ساتھ خود کو جوڑے رکھا:

  • ماہنامہ نیا ہند (الہ آباد): یہ رسالہ ہندی اور اردو رسم الخط میں 1950ء تک جاری رہا۔ وقار خلیل اس رسالے سے بھی وابستہ رہے اور بچوں کے صفحات "پریم برادری” کی ترتیب کے فرائض احسن طریقے سے انجام دیے۔
  • ترجمان مخزن: مئی 1953ء میں آپ نے سر عبدالقادر کے مشہور زمانہ لاہور کے رسالے "مخزن” سے متاثر ہو کر اپنی زیرِ ادارت "ترجمان مخزن” جاری کیا۔ اس اہم پرچے سے آپ کو فکری جلا اور معاشی استحکام دونوں حاصل ہوئے۔
  • ماہنامہ انعام: 1957ء میں آپ نے بچوں کے لیے ایک اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ماہنامہ "انعام” حیدرآباد سے جاری کیا۔ اس رسالے نے قلیل عرصے میں بچوں کے ادب تخلیق کرنے والوں کی گراں قدر خدمات کو متعارف کروایا۔
  • ممتاز شعرا کی توصیف: نامور شاعر خورشید احمد جامی نے ماہنامہ "انعام” کی تعریف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ "انعام” میں درج دلچسپی سے پر صحافتی زندگی کے اس ہمت آزمادور میں مستقبل کے معماروں کے لیے ایک اچھے پرچے کا اجرا، وقت کی ایک اہم اور بڑی ضرورت کو پورا کرنے والا ہے۔

بچوں کے ادب کی مشکل صنف اور وقار خلیل کا قلم

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بچوں کے لیے لکھنا بہت آسان کام ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بڑوں کے مقابلے میں بچوں کے لیے مختلف موضوعات پر لکھنا انتہائی مشکل اور کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔

  • سادہ و سلجھا ہوا اسلوب: وقار خلیل نے بچوں کے ادب میں بے شمار مضامین، نظمیں، کہانیاں اور پہیلیاں لکھیں جو اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کی تحریروں میں سادہ زبان، سہل الفاظ، چھوٹے چھوٹے جملے، سلجھی ہوئی مہارت اور دل نشین اندازِ بیان کی روانی ملتی ہے۔
  • موضوعات کا تنوع: خواہ وہ بچوں کی نفسیات کا احاطہ ہو یا اخلاقی اقدار کی ترویج، ان کی ہر تحریر بچوں کے دلوں پر نقش ہو جاتی تھی۔

شعری و ادبی خدمات اور تلمذِ جامی

حیدرآباد کے علمی، ادبی اور صحافتی ماحول نے وقار خلیل کے قلم کو جلا بخشی۔ ترقی پسند تحریکوں کے ہم قدم رہ کر انہوں نے زندگی کے حقائق کو اپنے تین شعری مجموعوں "شاعری”، "سخن” اور "ورثہ” کے اوراق پر بکھیر دیا۔

  • اصنافِ سخن پر عبور: وقار خلیل کی تخلیقی صلاحیتیں کسی ایک صنف تک محدود نہیں تھیں۔ ایک طرف وہ جدید شاعر کی حیثیت سے غزل، آزاد نظم، سانیٹ اور نعت گوئی میں طبع آزمائی کرتے نظر آتے ہیں، تو دوسری طرف کلاسیکی شاعری میں ان کا منفرد لہجہ اور اسلوب اربابِ نقد و نظر سے داد پاتا ہے۔
  • استادِ محترم خورشید احمد جامی: ابتدا میں آپ "خلیل” تخلص کرتے تھے، لیکن خورشید احمد جامی کے مشورے پر آپ نے اپنا قلمی نام "وقار خلیل” رکھ لیا۔ جامی صاحب کو اپنے تلمیذ پر بڑا ناز تھا اور وہ آپ کے مسودات کو اپنی آنکھوں سے لگایا کرتے تھے۔

ادارے ادبیاتِ اردو اور ڈاکٹر زور سے وابستگی

حضرت وقار خلیل اردو زبان کے عظیم معمار ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور کی دریافت اور تربیت یافتہ شخصیت تھے۔

  • ادارہ ادبیاتِ اردو: ڈاکٹر زور کی خصوصی خواہش پر آپ 1956ء سے 1998ء تک ادارہ ادبیاتِ اردو اور معروف رسالے "ایوانِ اردو” سے وابستہ رہے۔
  • سب رس اور شعبہ امتحانات: آپ نے طویل عرصے تک ماہنامہ "سب رس” کے مدیر کی حیثیت سے فرائض انجام دیے اور آخر وقت تک اردو کے شعبہ امتحانات کے انچارج کی ذمہ داری نبھاتے رہے۔

شخصیت، اخلاق اور وضع دارانہ طرزِ زندگی

وقار خلیل کی شخصیت صرف ایک ادیب یا صحافی کی حد تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ اخلاق اور مروت کا ایک روشن پیکر تھے۔

  • شریف النفس اور منکسرالمزاج: آپ ایک انتہائی شریف النفس، منکسرالمزاج، باوقار اور بااخلاق انسان تھے۔
  • وقت کی پابندی اور خود انحصاری: آپ کا یہ اصول تھا کہ انسان کو اپنا کام خود کرنا چاہیے اور دوسروں پر کام مسلط کرنا وضعداری کے خلاف ہے۔ آپ کے نزدیک محنت اور کام ہی اصل عبادت کا درجہ رکھتے تھے۔

حضرت وقار خلیل کی پوری زندگی اردو زبان، صحافت اور بچوں کے ادب کے لیے ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے جس خلوص، محنت اور دیانت داری کے ساتھ قلم کی خدمت کی، وہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آج کے اس دور میں جب اردو زبان کو نئے تقاضوں کا سامنا ہے، وقار خلیل جیسی شخصیات کے افکار اور کارناموں کو یاد رکھنا اور ان پر عمل کرنا ہماری ملی اور ثقافتی ذمے داری ہے تاکہ ہمارا ادبی ورثہ ہمیشہ تابناک رہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button