اسمبلی گیٹ پر پولیس بربریت تلنگانہ کی تاریخ کا ’سیاہ ترین دن‘ ہریش راؤ
حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے ڈپٹی فلور لیڈر ٹی ہریش راؤ نے تلنگانہ اسمبلی گیٹ پر اپوزیشن ارکان کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی کو ریاستی اسمبلی کی تاریخ کا ’سیاہ ترین دن‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اپوزیشن کی آواز دبانے اور اپنے ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پولیس فورس کا وحشیانہ استعمال کر رہی ہے۔
تلنگانہ بھون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ پولیس نے خواتین منتخب نمائندوں کے ساتھ بدسلوکی کی انتہا کر دی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس ایم ایل اے وی سنیتا لکشما ریڈی کی ساڑھی کھینچی گئی جبکہ سابق وزیر پی سبیتا اندرا ریڈی کے بال نوچ کر ان کا گلا دبایا گیا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ خواتین قانون سازوں کے ساتھ ایسی بدسلوکی کرنے والے پولیس اہلکاروں کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا۔
ہریش راؤ کے مطابق، اس جھڑپ میں بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ کے ہاتھ اور چہرے پر زخم آئے، جبکہ ایم ایل سی یادو ریڈی، ایم ایل اے مری راج شیکھر ریڈی اور کے سنجے سمیت کئی ارکان زخمی ہوئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ زخمی ارکان کو ابتدائی طبی امداد کے بعد اسپتال لے جانے سے بھی روکا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی پارلیمنٹ میں سیاہ لباس پہن سکتے ہیں تو بی آر ایس کو کیوں روکا گیا؟ ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس اپنے 1000 دنوں کی ناکامیوں، 6 ضمانتوں، 420 وعدوں، کسانوں، پنشن اور فیس ری ایمبرسمنٹ پر بحث سے خوفزدہ ہے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو خبردار کیا کہ انہیں اس پولیس گردی کی بھاری سیاسی قیمت چکانی پڑے گی۔



