اکیلا دریا صاف کرنے والے بھارتی نوجوان بِٹو تباہی کو ڈچ کمپنی کی ملازمت کی پیشکش
مدھیہ پردیش کے 21 سالہ سریندر سنگھ چودھری، جو سوشل میڈیا پر ’بِٹو تباہی‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے اکیلے ہی آجنار ندی سے مہینوں کی محنت کے بعد ٹنوں پلاسٹک کچرا اور گندگی صاف کر کے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی۔ ان کے اس حیران کن کارنامے نے ہالینڈ کی معروف غیر سرکاری تنظیم ’دی اوشن کلین اپ‘ کے بانی اور سی ای او بوئان سلیٹ کی توجہ حاصل کر لی، جنہوں نے نوجوان کی لگن دیکھ کر اسے ملازمت کی پیشکش کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک صارف نے ندی کی صفائی کی ’پہلے اور بعد‘ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے بِٹو تباہی کے جذبے کو سراہا۔ اس پوسٹ پر فوری ردعمل دیتے ہوئے ڈچ موجد بوئان سلیٹ نے کھلے عام دعوت دی: "ہمارے ساتھ کام کرو” ۔ اس پیشکش نے انٹرنیٹ صارفین میں خوشی کی لہر دوڑا دی اور لوگوں نے اسے نوجوان کی انتھک محنت کا بہترین صلہ اور زندگی کا سنہری موقع قرار دیا۔
مدھیہ پردیش کے ضلع راج گڑھ کے قصبے بیاورا سے تعلق رکھنے والے سریندر سنگھ نے رواں سال جنوری میں اس آلودہ ندی کی صفائی کا بیڑا اٹھایا تھا۔ انہوں نے نہ صرف روزانہ گھنٹوں خود ندی میں اتر کر پلاسٹک، کائی اور گندگی نکالی بلکہ اپنی جیب سے تقریباً 30 ہزار روپے بھی خرچ کیے۔ اس سے قبل معروف بھارتی صنعت کار آنند مہندرا بھی ان کی تعریف کر چکے ہیں اور انہیں اپنی تحریک قرار دیا تھا۔



