دہلی میں پانچ منزلہ عمارت گرنے سے 7 افراد ہلاک، مفرور مالک گرفتار
نئی دہلی: جنوب مغربی دہلی کے گنجان آباد علاقے ستیہ نکیتن میں ایک دہائیوں پرانی پانچ منزلہ عمارت گرنے کے دلدوز حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 7 ہو گئی ہے۔
این ڈی آر ایف، دہلی فائر سروسز اور پولیس کی جانب سے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن دوسرے روز بھی جاری ہے، جس کے دوران اب تک 12 افراد کو باہر نکالا جا چکا ہے۔ ملبے کے نیچے مزید لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ خستہ حال عمارت لڑکوں کے پی جی (ہاسٹل) کے طور پر استعمال ہو رہی تھی، جس میں دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے طلبہ کی بڑی تعداد مقیم تھی۔
یہ حادثہ اتوار کے روز اس وقت پیش آیا جب عمارت میں مرمتی کام جاری تھا۔ دہلی پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے حادثے کے 25 گھنٹوں بعد مفرور عمارت کے مالک ہری رام گپتا کو راجستھان کے بھواڑی سے حراست میں لے لیا ہے اور اس کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کر کے مزید پوچھ گچھ شروع کر دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے جائے حادثہ پر پہنچ کر امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور سخت قانونی کارروائی کا انتباہ دیا۔ انہوں نے ایم سی ڈی کے غفلت برتنے والے تمام متعلقہ افسران کے خلاف سخت اقدامات کی ہدایت کی۔
اس کے ساتھ ہی پانچویں منزل رکھنے والی تمام عمارتوں کو فوری طور پر سیل کرنے اور قرب و جوار کے تمام طلبہ ہاسٹلز اور عمارتوں کے جامع معائنے کا حکم جاری کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معائنے کے دوران بلڈنگ قوانین کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی سامنے آنے پر عمارت کو فوراً سیل کر دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ متاثرہ طلبہ کو متبادل رہائش فراہم کر دی گئی ہے اور انتظامیہ ان کے والدین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔



