ٹرمپ کا ایران کے نقشے پر اپنا چہرہ، تہران کے خلاف آن لائن مہم تیز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف آن لائن مہم تیز کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر اور پوسٹس شیئر کی ہیں۔ ایک پوسٹ میں ایران کے نقشے پر ٹرمپ کے چہرے کا خاکہ دکھایا گیا، جس سے جنگ کے بارے میں ان کے پیغامات کے بڑھتے ہوئے ذاتی انداز کی عکاسی ہوئی۔
ٹرمپ نے ایسی پوسٹس بھی شیئر کیں جن میں ایران کی تیل برآمدات میں کمی، معاشی مشکلات اور کھارج کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی شامل تھی۔ ایک مصنوعی تصویر میں طیارے کو تیل کے کنویں پر بمباری کرتے دکھایا گیا، جس کے ساتھ انہوں نے ’’الوداع، کھارج‘‘ لکھا۔
آبنائے ہرمز پر دباؤ
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روزانہ ایک کروڑ 80 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پہلے مقدار دو کروڑ بیرل تھی۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی فراہمی کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے اہم ہے۔
ٹرمپ نے چند روز قبل آبنائے ہرمز کا نام بدل کر ’’ٹرمپ آبنائے‘‘ رکھنے کی تجویز دی تھی، تاہم بعد میں اشارہ دیا کہ وہ سنجیدہ نہیں تھے۔ ان کی حکومت تیل کی نقل و حرکت برقرار رکھتے ہوئے ایران پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔
ایران کا سخت ردعمل
ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ متناسب جواب دینے کا دور ختم ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مفادات اور سلامتی کے خلاف جارحیت کا جواب زیادہ تیز، شدید اور تکلیف دہ ہوگا۔
اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ’’ممنوعہ علاقہ‘‘ قائم کیا جائے گا۔ اس علاقے میں داخل ہونے والے جہازوں کو ایران کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔



