ادب

کسوٹی

زرش اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ بڑے ہی ناز نعم میں پلی بڑھی تھی۔ جس چیز کی خواہش کی‘ آرزو کی وہ منٹوں میں پوری ہوجاتی۔ بچپن ہی سے اس کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ اُردو ادب سے اسے دیوانگی کی حد تک لگاؤ تھا جیسے ہی کچھ پل فرصت کے ملے وہ اپنی کتابیں لے کر درختوں کے جھنڈ میں بیٹھ جاتی۔ آج صبح ہی سے موسم حبس زدہ تھا۔ گرمی کے مارے برا حال تھا۔ ہوا بالکل بند تھی وہ گرمی سے بے نیاز درختوں کے جھنڈ میں بیٹھی کتاب میں پوری طرح مگن تھی۔ یہ درخت اسے بچپن ہی سے اپنی طرف کھینچتے تھے۔ اس وقت بھی فضاء بالکل ساکت تھی۔ کوئی آواز نہ تھی۔ اچانک ہی جھاڑیوں میں کچھ آہٹ ہوئی۔ زرش نے بے ساختہ پلٹ کر دیکھا۔ پیچھے کھڑی شخصیت کو دیکھ کراس کے گلابی لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئی۔ حسب توقع وہاں سمعان ہی تھا۔ ’’میں جانتا تھا اس وقت تم یہیں ہوگی‘‘۔ اپنے انداز کی درستگی پروہ مسکرایا … ’’کیا کررہی تھیں؟‘‘ اسے مگن دیکھ کر پوچھ بیٹھا۔’’ماہا ملک کی ناول پڑھ رہی ہوں غضب کی ناول نگار ہیں۔ پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی فلم بس سامنے ہی چل رہی ہے ہر جملہ ہر لفظ سے حقیقت کا گماں ہوتا ہے۔ یہاں درختوں کے جھنڈ میں بیٹھ کر پڑھنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے‘‘۔
سمعان اس کے بچپن کا دوست تھا۔ دونوں کے والدین ایک ہی کمپنی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ دونوں کے گھر بھی ایک ہی کمپاونڈ میں تھے۔ بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی کی منزلیں طئے کرتے ہوئے کب ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے پتہ ہی نہ چلا۔ کسی دن سمعان زرش سے نہ ملتا تو دونوں ہی بے چین ہوجاتے۔ دن بھر کسی کمی کا احساس مارے ڈالتا۔ انجینئرنگ کے بعد آج کل سمعان مختلف جگہ انٹرویو دینے میں مصروف تھا۔ دونوں ہی اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔ یہی وجہ تھی کہ شاید دونوں ایک دوسرے کے بغیر رہ ہی نہیں سکتے تھے۔
’’آج موسم بے حد گرم ہے۔ لگتا ہے بارش ضرور ہوگی کیونکہ بادل اب گرجنا شروع ہوگئے ہیں‘‘۔ ’’ہاں لگ تو رہا ہے۔ زرش نے بھی ہاں میں ہاں ملائی‘‘۔’’زرش میں آج امی سے بات کروں گا میری خواہش ہے اگلاساون ہم دونوں ایک ساتھ منائیں۔ مجھے یقین ہے امی ضرور مان جائیں گی وہ تمہیںبہت پسند کرتی ہیں‘‘۔زرش کی پلکیں رخساروں پر لرز کر رہ گئیں۔ وہ آنکھ اٹھا کر اس کی طرف دیکھ نہ سکی۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے بت بنی کھڑی رہی۔ سمعان بہت دلچسپی سے اسے دیکھتا رہا۔’’O.K تم پڑھو اپنی ناول! میں چلا!!‘‘
سمعان مسکراتا ہوا منٹوں میں درختوں کے جھنڈ میں غائب ہوگیا۔ زرش نے ناول بند کردی۔ اب بھلا پڑھا کس سے جاتا۔ پھر تو سارے ہی مرحلے یوں طئے ہوگئے جیسے تقدیر اسی انتظار میں تھی۔ دونوں خاندانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سب ہی نے اس رشتے پر خوشی کا اظہار کیا۔ ایک سہانی شام خوشیوں کے سندسیے لئے آئی اور زرش کو سب کی رضا مندی سے سمعان کے نام کردیا گیا۔ دل کی دنیا پلک جھپکتے ہی بدل گئی۔
سمعان اسے اپنے نام کی انگوٹھی پہنا کر بہت خوش تھا۔ زرش کو بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کی زندگی نے اتنا خوبصورت موڑ لے لیاہے۔ اسے اپنی زندگی میں ہر طرف پھول ہی پھول نظر آرہے تھے۔ ایک کتاب لئے وہ درختوں کے جھنڈ میںجارہی تھی کہ سمعان نے اسے پکارا۔ پلٹنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی سو وہیں کھڑی رہی۔ وہ سامنے آکھڑا ہوا۔ زرش کا دل اسے دیکھ کر بے اختیار دھڑکا رخساروں پر سرخی دوڑ گئی۔
’’آخر کار میںنے تمہیں پاہی لیا۔ زرش مجھے یقین نہیں آتا کہ تم میری ہوچکی ہو زندگی اتنی حسین لگ رہی ہے کہ واپس جانا مشکل لگ رہا ہے۔ پہلی بار اس جاب پر غصہ آرہا ہے۔ اس نے وقت کی کمی کااحساس کرتے ہوئے سب کہہ دینے کی ٹھان لی۔ زرش تم خوش ہونا‘‘۔ ’’راستہ دین مجھے پلیز! وہ شرمائی شرمائی سی بے حد پیاری لگ رہی تھی‘‘۔ ’’پہلے بتاؤ خوش ہو۔ وہ دوبارہ شوخ ہوا۔ پھر راستہ بھی دے دوں گا۔ بولوناں!خوش ہونا‘‘! اور وہ خوش کیوں نہ ہوتی بھلا!! اسے تو من چاہا جیون ساتھی ملا تھا لیکن اس سے کچھ کہا ہی نہ گیا!
’’ہاں… بس اب راستہ دیں‘‘۔’’بھئی پورا جملہ بولوناں!! یہ کیاہوا! ’’کہو ہاں خوش ہوں اتنی خوش کہ کچھ یاد ہی نہ رہا اس خوشی میں کوئی ناول لانا ہی بھول گئی‘‘۔ وہ شرارت سے مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔’’ بس کریں سمعان!‘‘ … وہ بلش ہوگئی۔
بہت ڈر پوک ہو! اچھا کچھ نہیں کہتا! جارہا ہوں بھئی۔ یہ تمہارے لئے اس نے پنک ریپر میں پیک کیا ہوا ایک خوبصورت سا پیکٹ زرش کی طرف بڑھادیا۔’’یہ کیا ہے‘‘؟ … وہ حیران نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔پیکٹ لیتے وقت اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ پھر گفٹ کو سینے سے لگائے اپنی مخصوص جگہ چلی آئی۔ آہستہ آہستہ پیکٹ کھولنے لگی اندر رنگ برنگی ہر رنگ کی چوڑیاں تھیں۔ حالانکہ اسے چوڑیاں پہننا پسند نہیں تھا لیکن یہ تحفہ اسے بہت خوش کر گیا۔ وہ آہستہ آہستہ اپنی کلائی میں چوڑیاں ڈالنے لگی۔ مسکراہٹ اس کے چہرے سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی وہ اپنی دھن میں مگن تھی کہ اچانک سمعان کی آواز سے چونک گئی۔
’’کیسی لگیں چوڑیاں۔ پسند آئیں وہ اس کا ہاتھ تھام کر رنگین چوڑیوں کودیکھنے لگا‘‘۔بہت! اس کے گلابی لبوں نے جنبش کی۔ ’’زرش میں کل واپس جارہا ہوں۔ گو دل تو نہیں چاہ رہا ہے مگر مجبوری ہے مجھے یاد کروگی؟ جواب دوناں!!’’ہاں! اس یاد کے علاوہ میرے پاس اور کیاہے۔ اتنا کہہ کر وہ سمعان کی طرف دیکھے بغیر آگے دوڑ لگادی۔
اس کے وجیہہ چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اسے زاد راہ مل گیاتھا۔ دوسرے دن وہ بنگلور روانہ ہوچکا تھا۔ ہفتہ دو ہفتہ میں ایک بار ٹیلیفون کے ذریعہ مختصر سی بات ہوجاتی تھی۔ رابطہ کے لئے صرف یہی ایک سہاراتھا۔ پھر اچانک کیاہوا کہ منٹ دو منٹ کی کال بھی بند ہوگئی۔ وہ ایک اداس سی شام تھی جب وہ ہر بات سے بے نیاز اپنی مخصوص جگہ درختوں کے جھنڈ کی طرف جارہی تھیکہ اچانک ہی کسی کو اپنی طرف آتا دیکھ کر رک گئی۔ ’’نجم السحر تم!‘‘ … وہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ نجم السحر‘ سمعان کی ماموں زاد بہن تھی اور اس کے ساتھ ہی بنگلور میں جاب کرتی تھی۔
’’ہاں! زرش میں ہی ہوں اور تمہیں ایک بری خبر سنانے آئی ہوں۔ پلیز حوصلہ سے سننا!‘‘
’’کیا‘‘ … وہ مزید حیران ہوئی۔’’تمہارے سمعان نے بنگلور میں اپنی ایک کو لیک سے شادی کرلی ہے۔ تمہیں شاید یقین نہ آئے کیونکہ میں نے بھی یقین نہیں کیاتھا مگر یہ سچ ہے میں اس لڑکی سے مل چکی ہوں‘‘۔
کچھ دیر وہ سکتے کے عالم میں کھڑی رہی۔ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن حلق میں کچھ اٹکتا ہوا محسوس ہوا۔ وہ یہ یقین ہی نہ کرسکی۔ پھر کچھ سنبھل کر کہنے لگی۔ ’’نہیں سحر! ایسا نہیں ہوسکتا میں یقین نہیں کرسکتی۔ یہ سب غلط ہے تمہیں کچھ غلط فہمی ہوئی ہے میں اس کی وفاپر اپنے آپ سے زیادہ یقین رکھتی ہوں‘‘۔ ’’اچھا غلط فہمی! تو یہ دیکھو یہ کیاہے؟‘‘ … اس نے اپنے پرس سے ایک تصویر نکال کر زرش کی طرف بڑھائی۔ تصویر میں سمعان ایک خوبصورت لڑکی کے ساتھ کھڑا مسکرا رہا تھا۔
اب واقعی زرش کے پیروں میں لرزش ہونے لگی۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ اسے کچھ نہ نظر آرہا تھا نہ سمجھائی دے رہاتھا اب تو بالکل سچ اس کے سامنے تھا۔ اب وہ کیا کرے۔ لیکن زرش نے حوصلہ نہیں ہارا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ دنیا اس کو کمزور سمجھے اور خاص طورپر سحر کے سامنے ۔ ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ میں ایسی کسی بات پر یقین ہی نہیں کرتی کیونکہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے اس وقت سے سمعان اور میری دوستی ہے۔
تم سمجھ سکتی ہو کتنی پرانی دوستی ہے۔ اب تو وہ اپنی مرضی سے مجھے اس بندھن میں باندھ دیاہے۔ وہ اپنی انگلی میں پڑی انگوٹھی کو گھماتے ہوئے کہنے لگی۔ میں نے تو صرف دوستی کی تھی لیکن اس نے مجھ سے محبت کی ہے۔ میں اس کی محبت پر فخر کرتی ہوں۔ سحر تم نے مجھے صرف ایک تصویر دکھائی ہے اگر وہ خود اس لڑکی کے ساتھ میرے سامنے آجائے اور کہے اپنے منہ سے کہ میں نے اس لڑکی سے شادی کی ہے تب بھی میں یہ یقین نہیں کروں گی کیونکہ سحر وہ میرے دل میں رہتے ہیں اور دلوں میں رہنے والے دلوں سے کھلواڑ نہیں کرتے سو میرا یقین ہے کہ وہ ایسا کبھی نہیں کرسکتے‘‘۔
اور پھر زرش صبر و ضبط کی تمام حدود کو پار کرتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔ وہ اپنے آپ کو کمزور بنانا نہیں چاہتی تھی۔ نہ وہ اپنے آپ کو کمزور سمجھتی تھی۔ بس ایک قیامت سے گذر کر جیسے ہی گھر میں قدم رکھی وہ بالکل پتھر کی مورت بن گئی۔ اس کے قدم زمین میں گڑھ سے گئے۔ پلک جھپکانا بھول گئی۔ ایک ٹک سامنے کھڑے اس بے وفاکی طرف دیکھنے لگی۔ صبر و ضبط کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔ وہ اپنے آپ پر قابو پاچکی تھی۔ بے اختیار ہی اس کا گریبان تھام کر اسے کئی جھٹکے دے ڈالے۔ روتے روتے وہ بے دم سی ہوگئی۔
جلد ہی سمعان نے اسے اپنی باہوں میں تھام لیا۔ بے انتہا پیار سے اسے اندر لایا اور صوفہ پر بٹھادیا خود نیچے گھٹنوں پر ٹک گیا۔ اتنے میں سحر بھی اندر آگئی تالیاں بجاتے ہوئے کہنے لگی۔
’’بھئی مان گئے سمعان تمہیں اور تمہاری محبت کو بھی کیسے چیلنج سے گذری ہوں بتا نہیں سکتی‘‘۔ پھر وہ زرش سے مخاطب ہوئی۔
’’زرش میرا خیال تھا کہ اتنا سب سن کر تم سمعان سے نفرت کروگی۔ روؤگئی۔ دہائیاں دوگی۔ اپنی محبت کا واسطہ دوگی۔ اس کو بے وفا کہو گی۔ مگر تم تو یقین کا پہاڑ نکلیں۔ سمعان بالکل درست تھا۔ وہ مجھ سے شرط باندھا تھا کہ تم چاہو جو کچھ کہو۔ میری زرش یقین نہیں کرسکتی۔ تمہاری محبت کو تم لوگوں کے ایک دوسرے پر یقین کو میں سلام کرتی ہوں‘‘۔ یہ کہہ کر نجم السحر چلی گئی۔
’’تو یہ مذاق تھا‘‘؟ وہ بے یقینی سے بولی۔
’’ بے شک جناب یہ مذاق تھا۔ مجھے یقین تھاکہ میری زرش کبھی میرے بارے میں کسی سے بھی کچھ بھی ‘ کبھی بھی‘ کہیں بھی سن لے وہ یقین ہی نہیںکرسکتی۔ ہماری محبت اتنی کمزور نہیں ہے۔ بچپن سے ہم ایک دوسرے سے اچھی طرح واقف ہیں۔ میں نے تمہیں مذاق میں بھی نہیں ستایاتھا۔ اسی اعتماد اور یقین نے مجھے سحر کا چیلنج قبول کرنے کی ہمت دی۔ سحر کا خیال تھا کہ کوئی بھی لڑکی چاہے وہ محبوبہ ہو۔ منگیتر ہو یا پھر بیوی ہی کیوں نہ ہو۔ اتنا سب سننے کے بعد تصویر دیکھنے کے بعد نفرت کے جذبات پیدا ہو ہی جاتے ہیں مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا‘‘۔
سمعان بہت خوش اور مطمئن تھا۔ زرش بالکل ساکت بت کے مانند ایک ہی نقطہ پر نگاہ جمائے بیٹھی رہی۔ اس کا دل دماغ سب کچھ سوچنے کی صلاحیت سے ماؤف محسوس ہورہا تھا۔ آخر کار سمعان نے اس کے دونوں کندھے پکڑے اور جھنجوڑنے لگا۔
’’زرش کچھ تو بولو! یہ تمہیں کیا ہوگیاہے۔ کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں ہے؟ مجھ پر بھروسہ اٹھتا جارہاہے؟ کیا بات ہے؟ کیا سوچ رہی ہو تم؟ کیا میں تم سے بے وفائی کرسکتا ہوں۔ میں نے تم سے ایک بار کہاتھا کہ تم میری زندگی ہو! زندگی بھی کوئی چھوڑتا ہے اپنی بھلا!‘‘اس کے کندھے سے سر ٹکائے زرش بے تحاشا رونے لگی۔ ضبط کئے ہوئے سارے آنسو ایک ساتھ بہہ نکلے۔ دھواں دھار برسات کے بعد موسم بالکل صاف ہوچکاتھا۔ بالکل زرش اور سمعان کے دلوں کی طرح۔

خیر النساء

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button