بین الاقوامیعرب دنیا

ایران مذاکرات کے لیے تیار، بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی قسم کے دباؤ یا زبردستی کو قبول نہیں کرے گا۔ یہ بیان انہوں نے عراق کے نامزد وزیرِ اعظم علی الزیدی کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دیا۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ ایک طرف امریکہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال رہا ہے، جبکہ دوسری جانب وہ مذاکرات کی توقع بھی رکھتا ہے، جو کہ ایک ناقابلِ قبول صورتحال ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ اور عدم استحکام کو ہرگز ترجیح نہیں دیتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار نہیں ہوگا اور یہ اس کا بنیادی حق ہے۔ ان کے مطابق ایران ہمیشہ سے عالمی قوانین کے تحت اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے شفاف رکھنے پر آمادہ رہا ہے۔

دوسری جانب، عراقی رہنما نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں باہمی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے سرکاری دوروں کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ جنگ بندی کے باوجود مذاکرات ابھی تک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔

ماہرین کے مطابق، اگر بات چیت کامیاب نہ ہوئی تو خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button