بین الاقوامیعرب دنیا

آبنائے ہرمز میں نیا نظام نافذ ایران کا جہاز رانی پر سخت کنٹرول، کشیدگی میں اضافہ

ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرا دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اب ہر جہاز کو اس اہم سمندری راستے سے گزرنے سے پہلے ایرانی حکام سے اجازت حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق، ایران نے اس اقدام کو "خودمختار حکمرانی کا نظام” قرار دیا ہے، جس کے تحت تمام جہازوں کو اپنی روانگی سے قبل اجازت نامہ لینا ہوگا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان بحری تنازع شدت اختیار کر چکا ہے۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ ان جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دے گا جن کا تعلق امریکہ یا اسرائیل سے ہوگا۔ اس کے علاوہ ایرانی پارلیمنٹ ایک ایسے قانون پر بھی غور کر رہی ہے جس کے تحت مخصوص جہازوں پر مزید پابندیاں اور ٹول ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب، امریکہ نے بھی ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور حالیہ دنوں میں ایک نیا منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت امریکی بحریہ جہازوں کو حفاظت فراہم کرے گی۔

ایرانی فوجی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی فوجی طاقت، خاص طور پر امریکہ، اس علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرے گی تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ماہرین کے مطابق، اس صورتحال سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button