بین الاقوامیعرب دنیا

امریکہ کو ایران کے جواب کا انتظار مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار

امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے جواب موصول ہونے کی توقع ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ “مثبت بات چیت” ہوئی ہے اور جلد کسی معاہدے کا امکان موجود ہے۔

دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق، ایران کے حملوں میں مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی اڈوں پر موجود 200 سے زائد تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ ان میں فوجی بیرکس، ایندھن ذخائر اور دفاعی نظام شامل ہیں۔ امریکی حکام نے مکمل تباہی کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صرف سیٹلائٹ تصاویر سے مکمل صورتحال واضح نہیں ہوتی۔

ادھر سعودی عرب اور کویت نے بعض امریکی فوجی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، سعودی قیادت امریکی منصوبے کے اچانک اعلان پر ناخوش تھی۔ اسی وجہ سے بعض فوجی اقدامات عارضی طور پر روک دیے گئے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اب تک امریکی تجاویز پر غور کر رہی ہے اور جلد فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکی سفارتی بیانات پر طنز کرتے ہوئے انہیں “اعتماد کھونے والی حکمتِ عملی” قرار دیا۔

ماہرین کے مطابق، خطے میں جاری صورتحال کے باعث عالمی سطح پر سیاسی اور معاشی بے چینی بڑھ سکتی ہے، جبکہ تیل کی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button