تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

نیٹ پرچہ لیک پر ہنگامہ، حکومت بحث کو تیار، طلبہ کا احتجاج برقرار

نیٹ پرچہ لیک معاملے پر ملک میں سیاسی اور عوامی ہنگامہ بدستور جاری ہے۔ ایک جانب طلبہ اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں، جبکہ دوسری جانب مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے۔ تاہم اپوزیشن نے صرف بحث ہی نہیں بلکہ وزیر تعلیم کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

بدھ کے روز لوک سبھا کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت نیٹ پرچہ لیک پر تفصیلی بحث کرانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحث کی تاریخ، مدت اور طریقہ کار کا فیصلہ تمام جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کے بعد لوک سبھا اسپیکر کریں گے۔

اسی دوران اپوزیشن جماعتوں نے ایوان میں شدید نعرے بازی کی، جس کے باعث کارروائی کچھ وقت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

دوسری جانب سپریم کورٹ میں طلبہ پر مبینہ پولیس تشدد کے خلاف فوری سماعت کی درخواست بھی پیش کی گئی، لیکن عدالت نے فوری سماعت سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے کو فوری طور پر فہرست میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

ادھر راہول گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے طلبہ کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دے کر طلبہ کے ساتھ ہونے والی کارروائی کی مذمت کی اور وزیر اعظم سے جواب طلب کیا۔ بعد میں پولیس نے متعدد اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے راہول گاندھی پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کے احتجاج کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور الزام لگایا کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے ماحول خراب کر رہے ہیں۔

اسی دوران سماجی کارکنوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کے تحفظ، شفاف امتحانی نظام اور انصاف کو یقینی بنایا جائے تاکہ نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button