پارلیمنٹ مارچ: جنتر منتر کے قریب پولیس اور مظاہرین میں جھڑپ
دہلی کے جنتر منتر پر جاری احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکنوں نے پارلیمنٹ مارچ کی کوشش کی۔ مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس نے سخت سکیورٹی انتظامات کیے، جبکہ متعدد مقامات پر آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور لاٹھی چارج بھی کیا گیا، جس کے بعد علاقے میں افراتفری پھیل گئی۔
احتجاج کے 23ویں دن ہزاروں مظاہرین نے پولیس کی پابندیوں کے باوجود پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق تقریباً 8 ہزار افراد احتجاج میں شریک تھے، تاہم عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔
دوسری جانب ابھیجیت دیپکے نے سونم وانگچک کی اپیل پر اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کر دی اور مارچ میں شامل ہوگئے۔ سونم وانگچک اس وقت صفدر جنگ اسپتال میں زیر علاج ہیں، تاہم انہوں نے اسپتال سے جاری اپنے پیغام میں کارکنوں سے مارچ میں بھرپور شرکت کی اپیل کی۔
پولیس نے بتایا کہ مارچ کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور فوجداری ضابطے کے تحت پابندیوں کے باعث احتجاجی ریلی غیر مجاز قرار دی گئی۔ جنتر منتر، شاستری بھون اور اطراف کے علاقوں میں اضافی پولیس نفری تعینات کی گئی، متعدد مقامات پر رکاوٹیں نصب کی گئیں اور داخلی راستوں پر سخت نگرانی جاری رہی۔
ادھر احتجاجی رہنماؤں نے اعلان کیا کہ ان کی تحریک جاری رہے گی اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔



