پپیتے کے پتوں کا رس ڈینگی میں پلیٹ لیٹس بڑھاتا ہے تحقیق کیا کہتی ہے
پپیتے کے پتوں کا رس ڈینگی کے مریضوں میں پلیٹ لیٹس بڑھانے کے لیے طویل عرصے سے گھریلو علاج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا واقعی اس کا سائنسی ثبوت موجود ہے؟ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کچھ ممکنہ فائدہ ضرور دیکھا گیا ہے، تاہم اسے ڈینگی کا ثابت شدہ علاج قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ڈینگی میں خون کے پلیٹ لیٹس کم ہونا عام مسئلہ ہے۔ بعض طبی مطالعات میں پپیتے کے پتوں کے عرق استعمال کرنے والے مریضوں میں پلیٹ لیٹس میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔ ایک جائزے میں چار مطالعات اور 439 مریضوں کے اعداد و شمار شامل کیے گئے، جس میں مجموعی طور پر پلیٹ لیٹس میں اضافے کا امکان سامنے آیا۔ تاہم محققین نے واضح کیا کہ بڑے اور اعلیٰ معیار کے مطالعات اب بھی ضروری ہیں۔
ایک مطالعے میں پپیتے کے پتوں کے رس استعمال کرنے والے مریضوں میں تقریباً 40 سے 48 گھنٹے بعد پلیٹ لیٹس میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ محققین نے خون میں پلیٹ لیٹس سے متعلق بعض جینیاتی سرگرمیوں میں بھی تبدیلی نوٹ کی۔
پپیتے کے پتوں کے استعمال سے بعض افراد کو متلی، معدے کی تکلیف یا حساسیت ہوسکتی ہے، جبکہ اس کے عرق اور بعض ادویات کے درمیان ممکنہ تعاملات پر بھی احتیاط ضروری ہے۔
اس لیے ڈینگی کے دوران صرف گھریلو نسخوں پر انحصار خطرناک ہوسکتا ہے۔ مناسب مقدار میں پانی، نمکیاتی محلول اور غذائیت بخش خوراک استعمال کریں، پلیٹ لیٹس کی جانچ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق کروائیں اور پپیتے کے پتوں کا رس لینے سے پہلے طبی مشورہ ضرور حاصل کریں۔



