تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

فارم-7 کے مبینہ غلط استعمال پر حیدرآباد میں بڑے احتجاج کی اویسی کی وارننگ

تلنگانہ میں ووٹر فہرستوں کی جاری خصوصی گہری نظرثانی کے دوران فارم-7 کے مبینہ غلط استعمال کا معاملہ سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے خبردار کیا ہے کہ اگر جھوٹے دعووں کے ساتھ فارم-7 داخل کرنے کا سلسلہ نہیں رکا تو حیدرآباد میں دہلی کے جنتر منتر سے بھی بڑے احتجاج ہوسکتے ہیں۔

اویسی نے یہ بات ہفتہ 3 اکتوبر کو حیدرآباد کے میلاد میدان میں منعقدہ 57ویں جلسہ میلاد النبی سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ جھوٹے دعووں کے ساتھ فارم-7 داخل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

فارم-7 کے استعمال پر اعتراض

الیکشن کمیشن کے مطابق فارم-7 کے ذریعے کوئی ووٹر انتخابی فہرست میں کسی نام کی شمولیت پر اعتراض کرسکتا ہے یا کسی موجودہ نام کو حذف کرنے کی درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے لیے موت، مستقل طور پر منتقل ہوجانا، ایک سے زیادہ اندراج، کم عمری یا بھارتی شہری نہ ہونے جیسے مخصوص اسباب پیش کیے جاسکتے ہیں۔ فارم میں دیے گئے دعوے کو ثابت کرنے کی ذمہ داری درخواست گزار پر ہوتی ہے۔

مسلم خاندان کے نام حذف کرنے کا الزام

تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے چیف الیکٹورل افسر سی سدھرشن ریڈی کو شکایت پیش کرتے ہوئے حیدرآباد کے مشیرآباد حلقے میں مبینہ طور پر پہلے سے چھپے ہوئے فارم-7 داخل کیے جانے کا معاملہ اٹھایا ہے۔

کانگریس کا الزام ہے کہ بوتھ نمبر 210 سے وابستہ بی جے پی کے بوتھ سطحی ایجنٹ ایس بال چندر کی جانب سے کانگریس کے بوتھ سطحی ایجنٹ شفیع الدین اور ان کے خاندان کے تقریباً 30 افراد کے نام حذف کرنے کی درخواستیں دی گئیں۔ پارٹی نے معاملے کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ الزامات ابھی تحقیقات کے مرحلے میں ہیں۔

فارم-7 سے نام فوراً حذف نہیں ہوتا

کسی ووٹر کے خلاف فارم-7 داخل ہونے سے اس کا نام خود بخود انتخابی فہرست سے حذف نہیں ہوجاتا۔ انتخابی رجسٹریشن افسر درخواست کا جائزہ لیتا ہے اور ضروری تصدیق کے بعد فیصلہ کرتا ہے۔ نام حذف کرنے سے قبل متعلقہ ووٹر کو اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع بھی دیا جانا ضروری ہے۔

عوامی نمائندگی قانون 1950 کی دفعہ 22 انتخابی فہرست میں اندراج کی درستگی اور نام حذف کرنے سے متعلق ہے، جبکہ دفعہ 24 بعض فیصلوں کے خلاف اپیل کا راستہ فراہم کرتی ہے۔ الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق جھوٹا حلفیہ بیان قابل سزا جرم بھی ہوسکتا ہے۔

اس دوران فارم-7 کی مبینہ غلط درخواستیں انتخابی عہدیداروں اور متعلقہ ووٹروں پر اضافی بوجھ ڈال سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب تلنگانہ میں خصوصی گہری نظرثانی کا عمل جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button