جنتا منتر احتجاج پر دہلی پولیس کی 3 ایف آئی آر، تقریباً 1,000 افراد زیر حراست
دہلی پولیس نے جنتا منتر میں جمعہ کو ہونے والے احتجاج کے سلسلے میں ہفتہ کو کم از کم 3 ایف آئی آر درج کی ہیں۔ احتجاج میں طلبہ تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ مطالبہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے الزامات کے پس منظر میں کیا گیا تھا۔
پارلیمنٹ اسٹریٹ اور کناٹ پلیس میں مقدمات
پولیس کے مطابق دو ایف آئی آر پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن اور ایک کناٹ پلیس پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ہے۔ مقدمات میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 223 شامل کی گئی ہے، جو سرکاری ملازم کی جانب سے جاری کردہ حکم کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق ہے۔ پولیس نے کہا کہ ایف آئی آر میں کسی فرد یا تنظیم کو ملزم کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا، تاہم احتجاج کے منتظمین اور اس میں شامل تنظیموں کی تفصیلات مقدمات کے متن میں درج ہیں۔
دہلی پولیس نے احتجاج سے قبل نئی دہلی ضلع میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کی دفعہ 163 کے تحت پابندی کے احکامات نافذ کیے تھے۔ پولیس کے مطابق ان احکامات کا مقصد امن و امان برقرار رکھنا، عوامی تحفظ یقینی بنانا اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنا تھا۔ احتجاج کے لیے پولیس کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔
سیاسی رہنما اور کارکن زیر حراست
پولیس نے جمعہ کو جنتا منتر اور اس کے اطراف سے تقریباً 1,000 افراد کو حراست میں لیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران پہلے 700 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع تھی، بعد میں یہ تعداد تقریباً 1,000 تک پہنچ گئی۔ متعدد افراد کو بعد میں مختلف اوقات میں رہا کردیا گیا۔
زیر حراست افراد میں عام آدمی پارٹی کے رہنما سوربھ بھاردواج، آتشی، سنجے سنگھ، کلدیپ کمار، جرنیل سنگھ اور سنجیو جھا، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا، سماجی کارکن یوگیندر یادو، راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رکن راجیہ سبھا پی سندیش، انڈین یوتھ کانگریس کے صدر اودے بھانو چب، این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھر اور ڈی وائی ایف آئی کے قومی صدر اے اے رحیم شامل تھے۔
احتجاج اور پولیس کارروائی
پولیس کے مطابق مظاہرین نے دفعہ 163 کے تحت نافذ پابندیوں کی خلاف ورزی کی۔ دوسری جانب مظاہرین کا احتجاج انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی سے متعلق الزامات اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے کے لیے تھا۔ ایف آئی آر میں انتخابی فہرستوں سے متعلق ان الزامات پر الیکشن کمیشن کا موقف شامل نہیں کیا گیا ہے۔



