بین الاقوامیعرب دنیا

فلائی دبئی کے معاون پائلٹ پر شدت پسندی کے خدشات، عمان نے پرواز سے روک دیا تھا

فلائی دبئی کے اس معاون پائلٹ کو، جس پر تل ابیب جانے والی پرواز کو مبینہ طور پر تقریباً حادثے کا شکار بنانے اور کاک پٹ میں حملہ کرنے کا الزام ہے، اس کے آبائی ملک عمان نے مبینہ طور پر شدت پسندانہ خیالات اختیار کرنے کے خدشات کے باعث طیارہ اڑانے سے روک دیا تھا۔ معاملے سے واقف ایک شخص نے ہفتہ 3 اکتوبر کو یہ اطلاع دی۔ تاہم جاری تحقیقات کے باعث اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

مذکورہ معاون پائلٹ کو بعد میں متحدہ عرب امارات کی ایئر لائن فلائی دبئی میں ملازمت دی گئی۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ متحدہ عرب امارات میں ملازمت دیتے وقت اس کی جانچ پڑتال کس حد تک کی گئی تھی۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے سب سے پہلے عمان کی جانب سے اسے پرواز سے روکنے کی اطلاع دی تھی۔

فلائی دبئی واقعے کے بعد تحقیقات جاری

واقعے کے بعد خطے کی فضائی سفری صنعت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ہوا بازی کی سلامتی سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔ علاقائی سطح پر تحقیقات جاری ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل جانے والی تمام پروازیں منسوخ کردی ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سفر کرنے والے سینکڑوں مسافر متاثر ہوئے۔ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے پھنسے ہوئے مسافروں کی واپسی کے لیے خصوصی پروازیں شروع کرنے پر اتفاق کیا۔

پہلی واپسی کی پرواز 2 اکتوبر کو رات تقریباً 11 بجے متحدہ عرب امارات سے روانہ ہوئی اور رات ایک بجے کے بعد تل ابیب پہنچی۔ دبئی سے اسرائیل کے لیے مزید پروازیں بھی مقرر کی گئی تھیں۔

شدت پسندی کے دعوے کی تحقیقات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں موصول ہونے والی ابتدائی معلومات میں حملے کے ایران سے تعلق کے اشارے ملے ہیں، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ دوسری جانب تحقیقات میں شامل ایک عہدیدار کے مطابق فی الحال حملہ آور کے ایران سے تعلق کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ معاون پائلٹ کے اندر ’’اسلامی انتہا پسندی‘‘ پیدا ہوئی تھی، تاہم انہوں نے اس دعوے کے ثبوت پیش نہیں کیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحقیقات اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا اسے کسی نے بھیجا تھا۔

متحدہ عرب امارات کے سینئر سفارتی مشیر انور قرقاش نے فلائی دبئی حملے کو ’’خطرناک دہشت گردانہ کارروائی‘‘ قرار دیا اور طیارے کے کپتان کی جانب سے بڑے حادثے کو روکنے کی تعریف کی۔

طیارہ 15 ہزار فٹ کی بلندی تک گر گیا

30 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے کی مزید تفصیلات بھی سامنے آرہی ہیں۔ زخمی کپتان سمت مچھر اور معاون پائلٹ کو جمعرات کو سعودی عرب سے متحدہ عرب امارات منتقل کیا گیا۔ سمت مچھر اس وقت ابوظہبی کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

سمت مچھر نے جمعہ کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ویڈیو کال پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ حملے کے بعد وہ شدید زخمی ہوکر گر گئے تھے، لیکن انہیں احساس ہوا کہ اگر وہ دوبارہ اٹھنے کی کوشش نہ کریں تو مسافروں کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

پرواز کے دوران دو گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد طیارہ اچانک 16,600 فٹ کی بلندی تک نیچے آگیا۔ اس سے قبل سامنے کی نشستوں پر موجود ایک مسافر نے کاک پٹ کے اندر لڑائی کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔ طیارہ کچھ دیر کے لیے 21,725 فٹ تک دوبارہ بلند ہوا، تاہم بعد میں تقریباً 15 ہزار فٹ کی بلندی پر آگیا اور ایک گھنٹے سے زیادہ وقت بعد سعودی عرب کے تبوک میں بحفاظت اترا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button