آملہ اور سہانجنا دیہی معیشت اور غذائیت کے فروغ کا ذریعہ، مودی
وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام میں آملہ اور سہانجنا کی بڑھتی ہوئی معاشی اور غذائی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ روایتی زرعی پیداوار دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ غذائی قلت کے خلاف کوششوں کو بھی مضبوط بنا رہی ہے۔
آملہ سے خواتین کو روزگار
وزیر اعظم نے کہا کہ آملہ بھارتی گھروں میں اچار، مربہ، جوس اور موسم سرما میں استعمال ہونے والی ایک معروف دوا کے اہم جزو کے طور پر طویل عرصے سے مقبول ہے۔ اب یہی پیداوار کسانوں اور خواتین کاروباری افراد کے لیے آمدنی کے نئے مواقع پیدا کررہی ہے۔
اتر پردیش کے پرتاپ گڑھ ضلع اور آملہ کے درمیان پرانا تعلق ایک ضلع ایک مصنوعات پروگرام کے ذریعے مزید مضبوط ہوا ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق ضلع میں تقریباً ۱۰۰ مقامی یونٹ آملہ کی تیاری اور مصنوعات بنانے کے کام سے وابستہ ہیں، جبکہ خواتین کے خود امدادی گروپ اس سرگرمی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دیوگڑھ کماسی گاؤں میں ساوتری پھولے خود امدادی گروپ آملہ کی ٹافیاں، مربہ اور جوس تیار کرتا ہے۔ بہتر منڈی تک رسائی سے گروپ کی خواتین کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح وندھیہ واسنی خود امدادی گروپ آملہ کا اچار اور ہاضم پاؤڈر تیار کرتا ہے۔ ان خواتین کو مصنوعات تیار کرنے کی مشینیں، قرضوں تک رسائی اور مقامی تجارتی میلوں میں شرکت کے مواقع فراہم کیے گئے، جس سے ان کی آمدنی بڑھی۔
مقامی پیداوار کو قومی منڈی تک پہنچانے پر زور
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کے ہر علاقے میں منفرد پھل، روایتی فنون یا خصوصی ہنر موجود ہیں۔ ایک ضلع ایک مصنوعات پروگرام کا مقصد ایسی مقامی پیداوار کو ملک کے دیگر حصوں اور عالمی منڈیوں تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے آئندہ تہواروں کے موسم میں مقامی مصنوعات خریدنے اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کی اپیل کی۔
سہانجنا سے غذائی قلت کے خلاف مہم
وزیر اعظم نے غذائیت کے حوالے سے ستمبر میں جاری مختلف کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ چھتیس گڑھ میں ’’ہر گھر سہانجنا‘‘ مہم کے ذریعے خاندانوں کو روزمرہ غذا میں سہانجنا شامل کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔
گجرات میں باجرے اور دیگر مقامی غذائیت بخش اجزا سے تیار کھانوں کے مقابلے میں دو لاکھ سے زیادہ افراد نے حصہ لیا۔ مہاراشٹر میں بھی ایسی سرگرمیوں میں مقامی شمولیت بڑھ رہی ہے، جبکہ میزورم میں غذائی باغات کی دیکھ بھال کے لیے اجتماعی مہم شروع کی گئی ہے۔
مودی نے بتایا کہ یہ اقدامات آنگن واڑی مراکز کی ڈیجیٹل مضبوطی کے ساتھ جاری ہیں، جہاں تقریباً نو کروڑ مستحقین رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے آملہ اور سہانجنا جیسی کم قیمت مقامی غذائی اشیا کے فروغ کے ذریعے ملک کو غذائی قلت سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے مسلسل کوششوں پر زور دیا۔



