امریکا کو ایران کی وارننگ، مزید نقصان پہنچانے کے لیے تیار ہیں
ایران نے امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ممکنہ نئی فوجی کارروائی کا سامنا کرنے اور امریکا کو مزید نقصان پہنچانے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا جب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
ٹرمپ نے سات روزہ تجویز مسترد کردی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتہ کو مبینہ طور پر آبنائے ہرمز کو سات روز کے لیے دوبارہ کھولنے سے متعلق تجویز مسترد کردی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ایک تجویز پیش کی تھی، تاہم انہوں نے اسے مسترد کردیا کیونکہ ان کے مطابق ایران شدید مشکلات کا سامنا کررہا ہے اور آبنائے کو فوری طور پر کھولنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران ثالثوں قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کے حتمی جواب کا انتظار کررہا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق عراقچی نے کہا کہ امریکی صدر کے کچھ بیانات مثبت جبکہ کئی متضاد ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مذاکرات کے ذریعے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اہم آبی گزرگاہ کے معاملے پر تعطل ختم کرنے کا راستہ بات چیت ہی ہے۔
آبنائے ہرمز پر معاہدے کی کوشش
بلومبرگ کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات کار ایسے معاہدے پر غور کررہے تھے جس کے تحت تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے گا اور واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرے گا۔
خطے میں کشیدگی برقرار
ہفتہ کو سعودی دارالحکومت ریاض پر یمن کے حوثی جنگجوؤں نے حملہ کیا۔ حوثیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔ یہ واقعہ خطے میں امریکا کے اتحادی ممالک کے خلاف بڑھتی کشیدگی کے درمیان پیش آیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نومبر کے اوائل میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف بمباری دوبارہ شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں اور انہیں شبہ ہے کہ تہران ان کے مطالبات پورے کرے گا۔ تاہم ٹرمپ نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ آیا انتخابات کے بعد حملے دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔
ایران کا مؤقف
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک امریکا کی پابندیاں اور ناکہ بندی برقرار رہیں گی، ایران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اقتصادی مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی تیار کرنے کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔



