امریکی حملوں کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای اسپتال کے ملبے سے نکالے گئے
ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران تہران کے ایک اسپتال کے ملبے سے نکالا گیا تھا۔ یہ انکشاف ایران کی مجلس خبرگان کے رکن محسن حیدری نے قطری نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کیا۔
اسپتال پر حملے کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق محسن حیدری نے بتایا کہ مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہونے کے بعد اسپتال منتقل کیے گئے تھے، تاہم بعد میں تہران کے تین اسپتالوں کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای تیسرے اسپتال میں موجود تھے، جہاں حملے کے بعد انہیں ملبے سے نکالا گیا۔
اس واقعے کے بعد ۵۶ سالہ مجتبیٰ خامنہ ای نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے اور اس کے بعد سے ان کی عوامی سطح پر موجودگی یا کسی بیان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
رہبر اعلیٰ منتخب ہونے کا عمل
محسن حیدری نے مجتبیٰ خامنہ ای کے رہبر اعلیٰ منتخب ہونے کے عمل سے متعلق بھی تفصیلات بیان کیں۔ ان کے مطابق مجلس خبرگان کے ارکان نے خفیہ طریقے سے ووٹنگ کی اور بعد میں مجتبیٰ خامنہ ای کے نام کا اعلان کیا گیا۔
حیدری نے دعویٰ کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو خود بھی اس وقت تک معلوم نہیں تھا کہ انہیں رہبر اعلیٰ منتخب کرلیا گیا ہے، جب تک ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر اعلان نشر نہیں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو ۵۹ میں سے ۵۰ ووٹ ملے، جبکہ آیت اللہ علیرضا اعرافی کے حق میں آٹھ ووٹ پڑے اور ایک رکن نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
مجلس خبرگان پر بھی حملے کی اطلاع
محسن حیدری نے مجتبیٰ خامنہ ای کو پردے میں رہنے والی شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ رہبر اعلیٰ بننے سے پہلے انہوں نے ایرانی حکومت میں کوئی سیاسی عہدہ نہیں سنبھالا تھا، تاہم وہ اپنے والد کے مشیر کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت پر مختلف دعوے
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ انہیں یقین ہے مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں، تاہم حملوں میں وہ شدید زخمی ہوئے تھے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے رواں ہفتے ایک امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کو مکمل طور پر بہتر قرار دیا۔ پزشکیان نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گزشتہ ماہ تقریباً سات گھنٹے ملاقات اور بات چیت ہوئی تھی۔



