ٹرمپ کا ایران پر بڑا فیصلہ جلد، جنگ مزید بھڑکنے کا خدشہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کہا ہے کہ بہت بڑے اقدامات جلد سامنے آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے میں ان کے سامنے تین راستے ہیں: معاہدہ، اقتصادی دباؤ جاری رکھنا یا ایرانی حکومت کو مکمل طور پر ختم کرنا۔
ایران کے بارے میں ٹرمپ کا فیصلہ
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے معاملے میں فیصلہ کرنے کی حالت میں ہیں۔ انہوں نے پورے ملک کو تباہ کرنے کا سوال بھی اٹھایا۔ ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں اپنا قیام ایک دن پہلے ختم کیا اور وائٹ ہاؤس واپس آگئے۔
ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں امریکا کی جانب سے ایک نئے حملے کی تیاری کی اطلاعات ملی ہیں۔ تہران نے خبردار کیا کہ حملہ ہوا تو خطے میں امریکی اڈوں اور دیگر مفادات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
خطے میں کشیدگی برقرار
دوسری جانب ایران کے حکام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچنے والے ہیں۔ ٹرمپ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اجلاس کے موقع پر ملاقات کا امکان ظاہر کیا۔
آبنائے ہرمز اور سعودی عرب
امریکی بحری ناکہ بندی سے ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ امریکی مرکزی کمان کے مطابق حالیہ مہینوں میں امریکی افواج نے آبنائے ہرمز سے ایک ارب بیرل سے زیادہ خام تیل کی ترسیل میں مدد دی اور دو ہزار سے زیادہ تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کی۔ ایران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے نفسیاتی کارروائی قرار دیا ہے۔
ادھر کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے ریاض کی جانب بیلسٹک میزائل داغا اور سعودی تیل کے اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا۔



