COP31 سے قبل گوتریس کی وارننگ، موسمیاتی تبدیلی پر فوری کارروائی کا مطالبہ
دنیا بھر میں بڑھتی گرمی، تباہ کن سیلاب، شدید طوفانوں اور خشک سالی کے بڑھتے واقعات کے درمیان اقوام متحدہ کی 31ویں عالمی موسمیاتی کانفرنس (COP31) پیر، 9 نومبر سے ترکی کے شہر انطالیہ میں شروع ہوگی۔ اقوام متحدہ کے سبکدوش ہونے والے سربراہ انتونیو گوتریس نے عالمی رہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اب فیصلہ کن اقدامات کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے اسے ’’سچائی کا لمحہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا مزید تاخیر اور طویل بحثوں کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
گوتریس کے مطابق، تیل اور گیس جیسے فوسل ایندھن کے مسلسل استعمال سے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے، جس کے نتیجے میں شدید گرمی کی لہروں، طوفانوں، سیلابوں اور خشک سالی جیسے واقعات میں شدت آرہی ہے۔ قدرتی موسمیاتی رجحان ال نینو بھی دنیا بھر کے موسمی نظام کو متاثر کررہا ہے۔
گوتریس کی آخری عالمی موسمیاتی کانفرنس
انتونیو گوتریس کے لیے یہ عالمی سربراہ کی حیثیت سے آخری بڑی موسمیاتی کانفرنس ہوگی، کیونکہ ان کی دوسری اور آخری مدت رواں سال کے اختتام پر مکمل ہوجائے گی۔ گزشتہ تقریباً دس برسوں کے دوران انہوں نے عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات اور فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے مسلسل آواز اٹھائی ہے۔
سابق امریکی نائب صدر ال گور نے گوتریس کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے مؤثر انداز میں عالمی توجہ مبذول کرائی۔ یورپی کلائمیٹ فاؤنڈیشن کی چیف ایگزیکٹیو لارنس ٹوبیانا کے مطابق، گوتریس نے اپنے اختیارات کی محدودیت کے باوجود موسمیاتی اقدامات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
20 نومبر تک جاری رہے گی کانفرنس
اقوام متحدہ کے مطابق، COP31 کا انعقاد 9 سے 20 نومبر تک ترکی کے شہر انطالیہ میں ہوگا۔ اس میں دنیا بھر کے ممالک کے رہنما، وزراء، سائنس دان اور ماہرین موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور عالمی تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کریں گے۔



