بین الاقوامیعرب دنیا

امریکی کانگریس پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول، 6 ہندوستانی نژاد کامیاب

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر کنٹرول حاصل کرکے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکا پہنچایا ہے۔ انتخابی نتائج میں نصف درجن ہندوستانی نژاد امریکی امیدواروں نے بھی کامیابی حاصل کی، جن میں امی بیرا، رو کھنہ، پرامیلا جے پال، سوہاس سبرامنیم، پیا ڈانڈیا اور ارونا ملر شامل ہیں۔

ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق، 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کئی ایسی ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کی جہاں طویل عرصے سے ریپبلکن پارٹی کا اثر و رسوخ رہا ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس نے 218 کی اکثریتی حد عبور کرلی، جبکہ سینیٹ میں بھی کم از کم 54 نشستیں حاصل کرکے اکثریت حاصل کی۔

ایران جنگ کو شکست کی وجہ ماننے پر ٹرمپ کا اعتراف

صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو کامیابی پر مبارکباد دی، تاہم انتخابی نتائج کو اپنی ذاتی شکست تسلیم کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نے انتخابی نتائج پر اثر ڈالا اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے ووٹر متاثر ہوئے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ریپبلکن پارٹی کی شکست کی وجہ ایران جنگ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے ووٹروں نے، جنہوں نے 2024 میں ٹرمپ کی حمایت کی تھی، اس مرتبہ ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔

ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی انتخابی نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام نے جنگ کے خلاف اپنا فیصلہ سنایا ہے۔

6 ہندوستانی نژاد امریکیوں کی کامیابی

ان انتخابات میں ہندوستانی نژاد امریکی امیدواروں نے مختلف ریاستوں میں کامیابی حاصل کی۔ امی بیرا نے کیلیفورنیا سے آٹھویں مرتبہ کانگریس کی نشست جیتی، جبکہ رو کھنہ نے بھی کیلیفورنیا سے کامیابی حاصل کی۔ پرامیلا جے پال واشنگٹن سے چھٹی مرتبہ ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب ہوئیں۔

اسی طرح سوہاس سبرامنیم نے ورجینیا کے دسویں کانگریشنل ضلع، پیا ڈانڈیا نے فلوریڈا کے 22ویں ضلع سے کامیابی حاصل کی، جبکہ ارونا ملر نے میری لینڈ کی لیفٹننٹ گورنر کی حیثیت سے اپنا عہدہ برقرار رکھا۔

ایلون مسک کا طنزیہ ردعمل

ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے ڈیموکریٹس کی کامیابی پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر طنزیہ تبصرہ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ خلاء میں ڈیٹا سینٹرز کا قیام اب زیادہ پرکشش دکھائی دے رہا ہے۔ ایک اور پیغام میں انہوں نے اپنی مبینہ ’’انتخابی مداخلت کرنے والی خلائی لیزرز‘‘ کے ناکام ہونے کا مذاق اڑایا۔

ان نتائج کے بعد ڈیموکریٹس کو کانگریس میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر نگرانی، حکومتی فیصلوں کی تحقیقات اور قانون سازی میں رکاوٹ ڈالنے کے مزید اختیارات حاصل ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button