ایران کے خلاف جنگ یا پابندیاں امریکی انتخابات کے بعد ٹرمپ کی پالیسی پر دنیا کی نظریں
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کو لے کر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ آیا ٹرمپ تہران کے خلاف فوجی کارروائیاں تیز کریں گے یا اقتصادی پابندیوں اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کریں گے۔ خلیج فارس میں بڑھتی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے سے عالمی توانائی منڈی اور ہندوستان سمیت کئی ممالک کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
انتخابات سے چند گھنٹے قبل امریکی فوج نے ایران کے قشم جزیرے پر محدود فضائی حملے کیے۔ امریکی حکام کے مطابق، ان حملوں میں ان ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جو امریکی اثاثوں کے خلاف فضائی دفاعی میزائل استعمال کررہے تھے۔ تاہم، واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات بھی جاری ہیں۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ ممکن ہے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی سفارتی حل کے امکانات پر امید ظاہر کی ہے۔
جنگ بندی یا نئی فوجی کارروائیاں؟
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر سے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب قطر کے ثالثی کار مذاکرات کے ذریعے ایسا سمجھوتہ کرانے کی کوشش کررہے ہیں جس کے تحت ایران آبنائے ہرمز میں حملے بند کرے اور امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ اور سفارت کاری دونوں کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی معاہدے کے لیے امریکی پابندیوں میں نرمی، بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے اور لبنان سمیت خطے میں جنگ بندی کی شرائط پیش کی ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج مکمل دفاعی تیاری کی حالت میں ہیں۔
ادھر، وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ اس سے ٹرمپ کی قانون سازی اور فوجی اخراجات سے متعلق پالیسیوں پر پارلیمانی نگرانی بڑھ سکتی ہے، تاہم صدر کے انتظامی اختیارات برقرار رہیں گے۔
ہندوستان کے لیے بڑھتے خدشات
تازہ واقعے میں 2 نومبر کو عمان کے قریب ہندوستانی پرچم بردار تجارتی جہاز ایم ایس وی الجسیفی کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں گجرات کے ایک ہندوستانی ملاح گندھر نہیم عزیز کی موت ہوگئی، جبکہ دیگر 13 ملاحوں کو عمانی کوسٹ گارڈ نے بچالیا۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق، مغربی ایشیا کے تنازع میں اب تک 15 ہندوستانی ملاح ہلاک ہوچکے ہیں۔
ہندوستان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے، مذاکرات جاری رکھنے اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سابق ہندوستانی سفیر تلمیز احمد کے مطابق، مغربی ایشیا میں جنگ سے انتخابی فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری ضروری ہے۔
اب توجہ اس بات پر ہے کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کے بڑھتے اثر کے باوجود ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔



